A Ameer Jan Qadri ki Fateha Chahlom kamiyabi ke Sath Ikhtetam Pazeer Hui

 



ہمدردِ قوم و ملت الحاج اے امیر جان صاحب قادری کی فاتحہ چہلم کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی
4اکتوبر 2026 بروز اتوار کو بعد نماز عشاء مسجد حضرت بلال ٹیانری روڈ بنگلور میں ہمدرد ِقوم و ملت ناشر مسلک اعلیٰ حضرت مجاہد اعظم اہل سنت الحاج اے امیر جان صاحب قادری نوّرالٰلہُ مرقدہُ کے ایصال ثواب کی محفل منعقد ہوئی،جس میں کثیر تعداد میں ریاست کرناٹکا سے سیاسی قائدین، عمائدین شہر، تنظیمات کے ذمہ د اران،مدارس و مساجد کے علمائے اہل سنت، ائمہ کرام و جامعہ طلبہ موجود رہے،تلاوت قرآن پاک سے محفل کا آغاز ہوا جس میں جامعہ حضرت بلال کے طلبہ نے نعت ومنقبت اور نظم پیش کی جلسے کی نظامت حضرت علامہ مولانا محمد ماہ زماں نوری صاحب شیخ الحدیث جامعہ حضرت بلال نے کی۔اجلاس کی صدارت حضرت علامہ مفتی محمد اسلم مصباحی صاحب قاضی ادارہ شریعہ کرناٹک نے کی،حضرت مولانا فیض القادری صاحب نے چند لمحے خطاب فرما کر مرحوم کی خدمات کو پیش کیا بعدہ  بیلگام سے تشریف لائے ہوئے قاضی ادارہ شریعہ حضرت علامہ مفتی محمد منظور عالم صاحب رضوی نے الحاج اے امیر جان صاحب کی کاوشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ آج ہمارا اتحاد بہت ضروری ہے امیر جان صاحب عالم تو نہ تھے مگر علمائے اہل سنت کو لیکر خوب کام کیا۔میں بلگام شہر میں رہتا ہوں بنگلور شہر بہت دورہے وہاں پر بھی ان کے کام کو یاد کیا جاتا ہے جہاں تک مجھے علم ہے  بیلگام ہی نہیں بلکہ ریاست اور ریاست ہی نہیں بلکہ قرب و جوار میں بھی انہوں نے جو اہل سنت و جماعت کے لیے کام کیا ہے اسے رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا،امیر جان صاحب نے مجھے جب بھی فون کیا صرف مسلک اور اسکے اتحاد پر بات کی،انکے ہر جملہ سے انکا درد سنیت دکھتا تھا  اس کے بعد شہر رام پور کے قاضی فاضل جامعہ ازہر حضرت علامہ مفتی سیدمحمد فیضان میاں صاحب نے خطاب فرمایا سب سے پہلے اپنے والد محترم محدث اعظم شہر رامپور حضرت علامہ مفتی سید شاہد علی میاں صاحب علیہ الرحمہ اور الحاج اے ایم اے جان صاحب قادری کے تعلقات آپس میں ایک دوسرے سے محبت،عقیدت،معاملات کو پیش کیا اور کہا یہ دونوں کی محبتیں صرف اور صرف مذہب اہل سنت و جماعت کی ترویج اشاعت کے لیے تھیں دونوں حضرات کام کی مشینیں تھیں اسی وجہ سے دونوں میں بہت ہی ربط اور ضبط تھا جب بھی صدر محترم نے والد محترم کو یاد کیا تمام اپنی مصروفیات کو چھوڑ کر وہ بنگلور تشریف لائے اور جب کبھی بھی رام پور میں صدر محترم کو یاد کیا گیا تو اس عمر میں بھی اپنی ٹیم کے ساتھ وہ رامپور کا سفر کرتے رہے آج دونوں شخصیات ہمارے درمیان موجود نہ رہیں مگر انکا مشن موجود ہے ہم اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسلک اہل سنت کے لیے کام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ حضرت نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے اس پر تقریبا 40 منٹ کا خطاب حضرت نے اس طرح فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں اترتا چلا گیاآپ نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کا ائینہ ہوتا ہے کسی کی عیب جوئی کرنا کسی پر طنز کرنا کسی کی برائی بیان کرنا یہ مومن کا شیوہ نہیں ہے انبیاء علیہم السلام کی ذات مبارکہ ہے کہ جن سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا مگر کسی سے بھی کوئی بھول چوک بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا بہتر نہیں پہلے ہم اپنے گریبان کو جھانک کر دیکھیں اپنی برائیوں کو دیکھیں اپنی خطاؤں کو دیکھیں اپنی نمازوں کو دیکھیں اپنے قران پاک کی تلاوت کو دیکھیں اپنے عمل صالح زندگی کو دیکھیں دوسروں کو دیکھنے سے پہلے اگر آپ خود اپنے کو دیکھیں گے تو مجھے لگتا ہے کہ آپ دوسروں کی برائی نہیں کرینگے کیونکہ یہ ارشاد نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ہے ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے اس پر اگر عمل کریں گے تو پھر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کی برائی بیان نہیں کرے گا تمام مسلمان آپس میں متحد رہیں آپس میں ایک دوسرے سے محبتیں کرتے رہیں اسی میں طاقت ہے اسی میں اتحاد ہے علمائے اہل سنت سے مشورہ کرتے رہیں ہمیں اللہ پاک نے جو زندگی دی ہے مقصد زندگی پر نظر رکھیں گے تو ان شاء اللہ ہماری زندگی کامیاب زندگی ہوگی امیر جان صاحب قادری سے تقریبا دوماہ پہلے ہی ملاقات ہوئی کافی نوازا بلکہ جیسے میرے والد محترم مجھ پر شفقت فرما تے تھے وہی انداز دیکھا مگر بہت ہی جلدوہ سایہ بھی میرے سر سے اٹھ چکا ہے جب بھی مجھے مرکز اہل سنت جامعہ حضرت بلال سے آواز دی جائے گی تو ان شاء اللہ میں اہل سنت کی ضرورت کے لیئے ضرورآتارہوں گا اور جب بھی مشورے کی ضرورت ہوگی میں حاضر ہوں گا،خطاب کے آخر میں کہا کہ میں موجودہ لوگوں سے یہ گزارش کروں گا کہ سب ملکر مسلک کا کام کریں ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہیں اسی میں آپ حضرات کی کامیابی ہے،اس کے بعد حضرت قاری محمد ذوالفقار رضا نوری صاحب مہتمم جامعہ حضرت بلال نے الحاج اے میر جان صاحب قادری کی زندگی کے سفر نامے کو پیش کیا انہوں نے 1988 جب سے مسجد بلال میں ان کو ذمہ داری دی گئی اس کے بعد سے انکے وصال تک مختصر حالات زندگی پیش کی انہوں نے کہا کہ چیرمین صاحب نے محلے ہی میں نہیں بلکہ پورے شہر میں ایک اچھی ٹیم بنائی پھر ریاست میں جس میں اہل علم تھے اہل ثروت تھے اہل حکمت تھے اہل طریقت تھے تمام کو لیا اور اس کے بعد ایک اہل سنت و جماعت کا قلعہ بنانے کی کوشش کی اور اس کوشش میں وہ کامیاب ہو گئے گاہ بگاہ ملک کے اکابرین کو بلاتے رہے جہاں کہیں اہل سنت کو للکارا جاتا اس موقع پر بھی وہ اپنے اکابرین کو بلا کر اس کا جواب دیا کرتے 1990 سے لے کر 2000ہزار تک کافی ہنگامے بھری زندگی مسجد بلال کی طرف سے ان کی رہی اور اس کے بعد انہوں نے پورے ریاست کی مساجد کو ایک جگہ جوڑنے کی کوشش کی گئی وقف بورڈ کے جوبھی چیئرمین ہوتے ان سے  اچھے روابط رکھتے مساجد اہل سنت کی حفاظت کے لئے ان سے گفتگو فرماتے پوری ریاست کی مساجد ایک جگہ جمع ہو جائیں اسلئے ایک فیڈریشن قائم کیا 2011 میں فیڈریشن آف مساجد اہل سنت و جماعت کرناٹک مساجد کا مضبوط دستور العمل تجربہ کار وکلاء سے تیار کرایا اھل سنت کے مطابق تقریبا ریاست کی 400 مساجد اس فیڈریشن میں آئیں اس کے بعد کرونا کا معاملہ آیا اور وہ کام رک گیا 2012 میں سنی علماء کونسل کرناٹک قائم کیا جامعہ حضرت بلال کے ماتحت جس میں شہر کے اکابر علمائے اہل سنت کو جمع کیا اسکے ماتحت ریاست اور پڑوسی ریاستوں میں ایک دن کے اجتماعات کرائے جب ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخیاں شروع کی گئی  تو انہوں نے ٹاؤن ہال کے سامنے بہت عظیم الشان پیمانے پر احتجاج کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے انہوں نے جب روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کیا گیا ان کو جلایا گیا اس موقع پر بھی انہوں نے ٹاؤن ہال کے سامنے بہت بڑا احتجاج کیا جب ملک میں سی اے لاگو کیا جا رہا تھا شاہین باغ دہلی کی طرز پربنگلور میں بھی بلال باغ میں احتجاج کئی مہینوں تک چلتا رہا،اسی طریقے سے انہوں نے شہر بنگلور جامعہ حضرت بلال میں دارالقضا ادارہ شریعہ حضرت علامہ غلام رسول بلیاوی صاحب سے مشورہ کر کے 2004 میں قائم کیا جس میں فقیہ النفس مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب کو بلایا گیا اور اس کے بعد ریاست کرناٹک میں علماء کو ایک طاقت ملی اور اہل سنت و جماعت کا کافی کام ہوا،ہر موقع پر مفتی ء کرناٹک حضرت مفتی محمد انور علی حشمتی علیہ الرحمہ چیئرمین صاحب کے ساتھ رہے۔قاری صاحب نے کہا کہ میں نے انکی زندگی کو پڑھا میں نے 25 سال ان کو دیکھا ان کو پڑھا ان کے کام کرنے کو جذبات کو دیکھا رات دن فکر
 اہلسنت وجماعت کی ترویج اشاعت اہل سنت و جماعت کا کام اہل سنت و جماعت میں اتحاد قائم رہے علماء، عمائدین، اور مشائخ عظام کو ایک جگہ ایک اسٹیج پر وہ دیکھنا چاہتے تھے پوری زندگی انہوں نے اہل سنت و جماعت کا کام کیا اتحاد کا پلاٹ فارم بنایا اور الحمدللہ ان کی زندگی میں جو انہوں نے کام کیا وہ رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا۔ میں نے دیکھا کچھ بھی اہل سنت پر معاملات ہوتے عمائدین، علماء،مشائخ،ذمہ داران انہی کا رخ کرتے آپ انکی نماز جنازہ دیکھیں ہزاروں کی تعداد میں عمائدین، سیاسی قائدین، علمائے کرام اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی بلکہ خود ریاست کرناٹک کی حکومت کی کی طرف سے ان کو سلامی دی گئی ان کی زندگی کے حالات کو بیان کرنے بہت وقت درکار ہے اپنے محسن کو یاد رکھیں انکے مشن کو آگے بڑھائیں انکی مغفرت کی دعا کریں آخر میں مفکر اسلام حضرت علامہ مولانا غلام رسول بلیاوی صاحب مائینارٹی کمیشن چیرمین بہار سابق ممبر آف پارلیمنٹ انڈیا نے اپنے خطاب میں رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری صاحب علیہ الرحمہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں الحاج امیر جان صاحب کو تب سے جانتا ہوں جب میری موچھوں کے بال نکل رہے تھے میں ان کے کام کو ان کی محنت کو ان کی کوشش کو ان کی جدوجہد کو میں بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں ان سے ایک بار نہیں بلکہ بار بار ملا ہوں ایک دن نہیں کئی کئی دن انکے ساتھ بیٹھا ہوں جب بھی اہل سنت و جماعت پرریاست یا ملک میں پریشانی آتی یا علمائے کرام پر کوئی انگلی اٹھاتا تو سب سے آگے بڑھنے والا وہ مرد مجاہد تھا جس کا نام الحاج امیر جان صاحب تھا وہ کسی بھی معاملات میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر حملہ ہوایا علمائے کرام کی ذات پر انگشت نمائی، مدارس مساجد اہلسنت پر قبضہ کا پلان اس موقع پر وہ مرد مجاہد سب سے آگے آتے ہوئے دیکھا اخبارات کے ذریعے سے میڈیا کے ذریعے سے اس مرد مجاہد کی کارگزاریاں بھی دیکھیں پڑھیں فون کے ذریعے سے بات چیت بھی ہوتی رہتی جب بھی بلاتے بے پناہ محبت سے بات کرتے کبھی مصروفیات کی وجہ سے انکار کیا تو بولتے مجھے آپ ہونا تو ہونا انکی محبت دیکھ کر اپنی مصروفیت چھوڑ کر بنگلور آجاتا میں خود کام کرنے والا انسان ہوں اور کام کرنے والے کو پسند کرتا ہوں جب انہوں نے مجھے بلایا چاہے وہ ادار شریعہ کرناٹک، جامعہ حضرت بلال،علمائے اہل سنت کا معاملہ ہو یا کوئی اور میں حاضر آیا آج وہ مرد مجاہد ہمارے درمیان نہ رہا میں دیکھ رہا ہوں کہ آج اس اسٹیج پر جتنے علماء کرام بیٹھے ہوئے ہیں کسی کی فاتحہ چھلم میں اتنے علماء نہیں دیکھے ہوں گے سینکڑوں علماء سے کھچا کھچ بھرا ہوا اسٹیج انکا کام بتا رہا ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ عمائدین شہر مسجد میں بیٹھے ہیں اور مسجد کی دوسری طرف دیکھا کہ سیاسی قائدین کا آنا جانا لگا ہوا ہے انہوں نے جس بھی محبت کی اپنے مسلک کے لیے محبت کی چاہے وہ سیاسی قائدین ہوں عمائدین ہوں علماء ہوں جو کام کرتا تھا وہ اس کو چاہتے تھے وہ اس سے پیار کرتے تھے رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری بھی ان سے بے پناہ محبت فرماتے تھے کیونکہ علامہ بھی کام کرنے والی مشین تھے اور الحاج اے امیر جان صاحب بھی انہوں نے اپنی زندگی میں ریاست کرناٹک میں جامعہ حضرت بلال،دارالقضا، ادارہ شریعہ، دارالافتاء، دارالبنات قائم کیا جس کے ذریعہ سے انکو ثواب پہنچتا رہیگا اب شاید نہیں لگتا کہ کوئی اتنا بڑا کام کر سکے گا پھر بھی میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان کا نعم البدل عطا فرمائے ان کے جو فرزندان ہیں جامعہ حضرت بلال کی ٹیم ہے گزارش کروں گا حاجی صاحب کے اس مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہیں گے، جب بھی مجھے آپ یاد کریں گے
میں ضرور آؤنگا دوسری ہی دن 5اکٹوبر مسجد حضرت بلال کے قریب میں میٹنگ ہال میں صدر ادارہ شریعہ پٹنہ بہار بلیاوی صاحب نے
 ریاست سے آئے ہوئے تمام قاضیان کے ساتھ تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے میٹنگ کی اور ان کے سامنے تمام چیزوں کو پیش کیا گیا ملک کے حالات کس طرح کے ہیں قاضیان پر کس طرح سے حملہ کیا جا رہا ہے دارالقضا کے ذمہداروں پر کس طرح کی مشکلات کا سامنا آرہا ہے وہ تمام چیزیں بالخصوص انہوں نے طلاق ثلاثہ فسخ نکاح جعلی نکاح نامہ جیسے امور پر گفتگو فرمایاکہا ملک کے حالات میں دیکھ رہا ہوں حالات بہت ہی خراب ہیں مساجد کو شہید کیا جارہا ہے مدارس پر روک لگائی جا رہی ہے اسوقت ایک مظبوط قیادت کی ضرورت ہے اسکے لیے علمائے کرام کو آگے آنا ہوگا۔





Comments

Popular posts from this blog

Sunni Ijtema Panjatan e Paak Ke Naam ka Kamiyab Ikhtetam Masjid e Rasoolullah صلی اللہ علیہ وسلم

Gustakh-e-Rasool Nazia Mal'oonah Ke Khilaf Bangalore Mein Noori Foundation Ki Complaint

NFUF Ke Zire Ehtemam Masjid e Rasoolullah ﷺ Mein Isteqbal e mahe Rabi un Noor Aur Urs e Ala Hazrat Ki Kamyab Mahfil