Posts

Muslimanan-e-Hind qanoon-e-Hind o qanoon-e-Shariat ke alambardaar hain. ✅

Image
مسلمانانِ ہند قانونِ ہند و قانونِ شریعت کے علمبردارہیں   تحریر: محمد توحید رضا علیمی بنگلور ہم جس ملکِ عزیز میں رہتے ہیں، وہ ملک ہندوستان ہے ایک جمہوری مملکت، جہاں کی تہذیب و تمدن گنگا جمنی روایات کا حسین امتزاج ہے۔ اس سرزمین کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مختلف قومیں آباد ہیں، سب کے مذاہب الگ، عقائد جدا، خیالات مختلف، اور رنگ و نسب متنوع ہیں۔یہاںمختلف ، تہذیبوں اور زبانوں کے ماننے والے امن و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی تنوع میں ملتِ اسلامیہ ہند کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے کہ وہ نہ صرف اس ملک کے آئین کی وفادار ہے بلکہ شریعتِ مطہرہ کی امین و محافظ بھی ہے۔ ہندوستان کا آئین آرٹیکل 25 میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر چلنے، اس کی تبلیغ کرنے، اور اپنے مذہبی ادارے مثلاً مساجد، مدارس، مندروں، گردواروں اور گرجا گھروں وغیرہ کے قیام و انتظام کی آزادی دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں مسجد بھی ہے، مندر بھی، گرجا گھر بھی ہے اور گردوارہ بھی ، اور یہی مذہبی ہم آہنگی اور رواداری اس ملک کی اصل شناخت  ہے ہمارے بزرگوں نے اس ملک کو امن، شانتی اور اتحادِ انسانی کا پیامبر بنانے کے لیے آئینِ ہند کی بن...

Naam e Mohammad ﷺ ki Fazilat Aur Barakat

Image
  تحریر۔محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور نامِ محمد ﷺکی فضیلت و برکات   دنیا کے تمام ادیان اور تہذیبوں میں اگر کسی نام کو سب سے زیادہ عظمت، تقدس احترام اور محبت ملی ہے تو وہ نامِ محمد ﷺہے ،لفظِ محمد اتنا پیارا اور اتنا حسین ہے کہ اس کے سنتے ہی ہر نگاہ فرط تعظیم اور فرط ادب جھک جاتی ہے ہرسر خم ہوجاتے ہیںاور زبان پر درود وسلام کے زمزمے جاری ہوجاتے ہیں ، لفظ محمد مادہ ”حمد” سے مشتق ہے۔ ”حمد” کے معنی تعریف کرنے اور شاباش دینے کے ہیں۔ خواہ یہ تعریف کسی ظاہری خوبی کی وجہ سے کی جائے یا کسی باطنی وصف کی بنا پر۔لفظ محمد اسم مفعول کا صیغہ ہے اور اس سے مراد ہے:الذی یحمد حمداً مرۃ بعد مرۃ(وہ ذات جس کی کثرت کے ساتھ اور بار بار تعریف کی جائے) امام راغب الاصفہانی لفظ محمد کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:و محمد اذا کثرت خصالہ المحمودہ (اور محمد اسے کہتے ہیں جس کی قابلِ تعریف عادات حد سے بڑھ جائیں)۔ہمارے آقاحضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعدد اسمائے گرامی ہیں، بعض محدثین کے مطابق اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکو بھی ننانوے ناموں سے نوازا ہے ۔بعض علماء کے بقول آپ کے اسماء مبارکہ تین سو ہیں۔ اورصاحبِ ارشاد الساری ش...

15 August Independence day 2025 Urdu Article

Image
  15اگست تاریخِ ہندکایادگاردن ہے- شہیدانِ وطن نےآزادی دلواکر اتحادکاپیغام دیا معزز قارئین۔ملک ہندوستان جو سونے کی چڑیا کے نام سے جانا جاتا تھا اس ملک پر انگریزوں کا تسلط ہوا ہندوستانیوں کو غلام بنایا گیا انگریزی حکومت قائم رہی ملک اپنا۔ پر ہم پر انگریز مسلط تھے ہمارے آبا و اجداد ۔علمائے کرام ۔دینی۔ ملی۔ سماجی ۔قومی ۔سوچ و فکر کے حامل رہنماؤں نے بلا تفریق و ملت  انگریزوں کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور جب تک اِس ملک کو آزاد نہ کروایا اس وقت تک انگریزوں کے خلاف ڈٹے رہے آخر کار انگریز ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے 1947ء کو ملکِ ہندوستان آزاد ہوا یہ انگریزوں کی تسلط سے آزادی ہے ملک عزیز چلانے کے لیے قانون بنایا گیا جس میں ہر ایک مذہب کے ماننے والوں کے لیے برابر کے حقوق متعین کیے گئے آج ملک عزیز کا دستور جہاں مسجد مدرسہ دین کی تبلیغ کی اجازت دیتا  ہے وہیں پر مندر گردوارہ چرچ وغیرہ بنا کر اپنے اپنے مذہب کی فکر کو عام کرنے کا راستہ بھی مہیا کرتاہے۔ہر ایک ہندوستانی اپنے ہندوستانی ہونے پر ناز کرتے ہیں اورہم قوم مسلم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہندوستانی مسلمان ہیں۔ ،یہ ملکِ ہ...

MAH E SAFAR MANHOOS NAHIN

Image
  ماہِ صفر ہرگز منحوس نہیں، صفر الخیر ہے   بدشگونی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے تحریر:محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور اسلامی نیاسال محرم الحرام سے شروع ہوتاہے اور یہ چارحرمت والے مہینوں میں ایک ہے جسے قرآن مجید میں منھا اربعۃ حرم۔کہا۔ قمری پہلا مہینہ محرم الحرام کے بعدقمری دوسرا مہینہ ماہِ صفر المظفر آتاہے۔چنانچہ کئی لوگ ماہِ صفرکے آنے کو منحوس خیال کرتے ہیں۔ مثلاً نحوسست کے وہمی تصورات کے شکارلوگ ماہ صفرکو مصیبتیں اور آفتیں اترنے کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ماہِ صفر المظفرکی ابتدائی 13 تاریخیں بہت زیادہ منحوس(نحوست والی) مانی جاتی ہیں اس کو تیرہ تیزی کہتے ہیں ،اس میں شادی بیا۔ رخصتی۔گھر بدلنے۔ سفر کرنے کو منحوس جانتے ہیں، علامہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ سب جہالت کی باتیں ہیں ان سب کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔اور صدرُالشریعہ لکھتے ہیں کہ اس صفر المظفر کے آخری بدھ(چہارشنبہ) ہندوستان میں بہت منایا جاتاہے لوگ اپنے کاروبار بند رکھتے ہیں۔بہتر عمدہ کھانے تیار کرتے ہیں اور اپنے اپنے گھروں سے سیر و تفریح کے لیے نکل جاتے ہیں، پوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں م...

The days of Qurbani have passed, but the message of sacrifice still lives on

Image
 قربانی کے دن بیت گئے، مگر قربانی کا پیغام آج بھی زندہ ہے کیا ہم نے عبادت سے کچھ سیکھا یا صرف رسم نبھائی؟ *تحریر: محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور9886402786 قربانی کا مقصد صرف جانور کا ذبح کرنا نہیں، بلکہ دلوں کو جھکانا اور زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق سنوارنا ہے۔آج کی صورتِ حال:ایام نحر میںہم ہر سال لاکھوں جانور قربان کرتے ہیں، مگر اپنے نفس، تکبر، خواہشات، اور گناہوں کو قربان نہیں کرتے۔ اپنی ضد، انا، جھوٹ، فریب، خود غرضی کو قربان نہ کر سکے۔قربانی کے گوشت کا ذائقہ ہم نے چکھا، مگر قربانی کے جذبے سے محروم ر ہے اور اس کے روحانی اثرات سے محروم رہے ہم اس عبادت کو محض رسم سمجھ کر ادا کرتے ہیں کہ ہمارے باپ داداکرتے تھے ہم بھی کررہے ہیں، نہیں قربانی یہ حکم ِ خدا ہے اسے عبادت سمجھ کر اللہ پاک کی رضاپانے کے لئے ہی ادا کرناہے ۔قربانی صرف تین دنوں کی عبادت ہے، مگر ہم پورے سال کے فرائض، واجبات، نمازیں، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں کوتاہی کرتے ہیں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، قربانی کرتے ہیں، حج کرتے ہیں ،مگر عبادات کا مقصد یعنی تقویٰ، قربانی کا جذبہ، اللہ کی رضا، اور معاشرتی بھلائی ہم س...