Sunni Ijtema Panjatan e Paak Ke Naam ka Kamiyab Ikhtetam Masjid e Rasoolullah صلی اللہ علیہ وسلم


                پنجتن پاک کے نام پر مسجد رسولُ اللہ ﷺ  میں کامیاب سنی اجتماع  

محبت اہل بیت وتعظیم صحابہ ہی عقائد اہل سنت کی اصل روح ہے ۔  علامہ مفتی محمود عالم مصباحی 


بنگلور (پریس ریلیز/ 28 جون 2026): نوری فاؤنڈیشن علماء فیڈریشن کرناٹک کے زیرِ اہتمام "سنی اجتماع پنجتن پاک کے نام " کا ایک عظیم الشان اور روح پرور انعقاد نیو گروپن پالیہ، بنگلور کی تاریخی مسجد رسول ُاللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل سنت والجماعت میں کیا گیا۔27 جون بروز ہفتہ بعد نمازِ عصر شروع ہونے والا یہ مقدس اجتماع رات بارہ بجے تک جاری رہا، جس میں علمائے کرام، مشائخِ عظام اور عاشقانِ رسول و پنجتن پاک کی کثیر تعداد نے شرکت کی،اس عظیم الشان سنی اجتماع میں جید علمائے کرام نے اہلِ سنت و جماعت کے مستند عقائد، اہلِ بیتِ اطہار کی عظمت اور موجودہ دور کے فتنوں کے حوالے سے نہایت بصیرت افروز خطابات کیے۔

اجتماع کا باقاعدہ آغاز دعوتِ اسلامی کے مبلغ کی تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ بعد ازاں، دعوتِ اسلامی بنگلور ساؤتھ کے نگراں عالی جناب سید منیر عطاری صاحب نے نمازِ عصر تا مغرب خصوصی تربیتی حلقے لگائے  انہوں نے حاضرین کو وقت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے فکر انگیز گفتگو کی اور کہا کہ انسان دنیا کے ہر کام کے لیے وقت نکالتا ہے، تو پھر کائنات کے سب سے اہم کام یعنی "نمازِ پنجگانہ" کے لیے وقت نکالنا سب سے زیادہ ضروری ہے

۔بعد نمازِ مغرب، علامہ مولانا حافظ و قاری محمد حسین اشرفی مصباحی صاحب نے "شانِ پنجتن پاک و فضائلِ اہل بیت" کے مصلحانہ موضوع پر فکری خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر ہم کسی کے ہاں دعوت کھائیں تو احسان مانتے ہیں، یہاں تک کہ شریعت میں کسی کا سلام پہنچانے والے پر بھی احسان کا بدلہ "وعلیک و علیہ السلام" کہہ کر دیا جاتا ہے۔ تو ذرا سوچیں کہ جن کے ذریعے ہم تک دینِ اسلام پہنچا، ان اہل بیت اور محسنین کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے!مولانا نے واضح کیا کہ ان محسنینِ دین نے ہمیں خرافات کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن

 و حدیث کی سچی روشنی عطا فرمائی ہے، یہی سیدھا راستہ ہے، انہوں نے مسائلِ شرعیہ کی توضیح کرتے 

ہوئے کہا کہ قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے مسائل کو نکالنا اور ان پر عمل کرنا ہی اصل دین ہے۔ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اسے جاننے کے لیے اللہ پاک نے قرآن میں صاف فرما دیا:پس تم اہل علم سے پوچھ لو اگر تمہیں خود معلوم نہ ہو۔پنجتن پاک کا نام لے کر خرافات کرنے والوں کا عقیدہ اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔موقع پر مدرسے کے کئی ہونہار طلبہ نے بھی بارگاہِ  امام حسین میں منقبتِ امام حسین رضی اللہ عنہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی: 

شہر کے ممتاز عالمِ دین حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری حسان آمری صاحب نے ایمان افروز نکات پیش کیے،انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک نے امت اور قوم کی حفاظت جاہلوں کے سپرد نہیں کی، بلکہ قوم کی فکری و نظریاتی ذمہ داری علمائے کرام کے سپرد فرمائی ہے، کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ "علماء انبیاء کے وارث ہیں ِ، یزیدی فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے علامہ حسان آمری صاحب نے ایک تاریخی نکتہ بیان کیا کہ اللہ نے باطل یزید کے مقابلے کے لیے کسی جاہل کو نہیں کھڑا کیا، بلکہ کائنات کے سب سے بڑے علم کے دروازے (بابِ مدینۃ العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ) کے فرزندِ ارجمند امام حسین رضی اللہ عنہ نواسہ رسول کو کھڑا کیا، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا: صرف نام لینے یا لکھنے سے اور شریعت کے خلاف کام کر کہ حسینی نہیں بنتے بلکہ ہم شریعت پر عمل کر کے رہتی دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہم سچے حسینی ہیں۔ علمائے اہل سنت ہی آپ کے صحیح عقیدے کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہم زبان سے دعوے نہیں کرتے، بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ ہم حقیقی پنجتنی ہیں۔ ہمارا رشتہ صرف اپنے نبی پاک ﷺ کی محبت سے ہے، جو نبی کا نہیں وہ ہمارا ہو ہی نہیں سکتا۔،

اس موقع پر حضرت علامہ مولانا سید ربانی ثقافی آمری صاحب صدر نوری فاؤنڈیشن علماء فیڈریشن کرناٹک نے اپنے خطاب میں اہلِ بیت کی اقسام کو تفصیل سے بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اہلِ بیت تین طرح کے ہیں: اہلِ بیتِ سکونت، اہلِ بیتِ نبوت اور اہلِ بیتِ نسب۔ آپ نے قرآن و احادیث کی روشنی میں ان تینوں کی جامع اور مدلل تشریح پیش کی۔ مزید برآں آپ نے آقا کائنات ﷺ کا بلند و بالا مقام، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی عظمت، پنجتنِ پاک کے فضائل، شانِ صحابہ کرام اور شانِ مومن کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا

۔اس کے بعد مناظر اہل سنت مقررِ خصوصی حضرت علامہ مولانا مفتی محمود عالم مصباحی برکاتی صاحب نے اپنے فکر انگیز خطاب میں فرمایا کہ موجودہ حالات میں خرافات کے ذریعے معاشرے کو گمراہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان خرافات کا اہلِ سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ خصوصاً ماہِ محرم میں بعض رسومات کو اہلِ بیت اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر انجام دیا جاتا ہے، جو تعلیماتِ اہلِ سنت کے خلاف ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بعض لوگ نیاز، دعا، فاتحہ اور وسیلہ جیسے اعمال کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کر کے انہیں نیا عمل قرار دیتے ہیں، جبکہ یہ امور ان سے صدیوں قبل بھی اولیائے کرام کے زمانے میں رائج تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے واقعات پیش کیے۔اولیائے کاملین کی روحانی طاقت اور تصرفات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم کی آیت ”جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں“ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ شہداء اور اولیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص حیات عطا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ سنت نبی کریم ﷺ کو وصال کے بعد بھی زندہ مانتے ہیں اور اسی طرح اولیاء و شہداء کی حیات کے بھی قائل ہیں، اسی لیے ان کے مزارات پر حاضری دے کر فیض حاصل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا پیغام خرافات نہیں بلکہ شریعت کی پابندی اور نماز کی اہمیت ہے۔ میدانِ کربلا میں آپ کا آخری عمل سجدہ تھا، اپنے خطاب کے اختتام پر نوجوانوں کو نصیحت کی کہ دین  اسلام کی تعلیم ہمیشہ مستند علمائے اہلِ سنت سے حاصل کرنی چاہیے، اور اپنے عقائد کو درست رکھنا چاہیے۔ روز مرہ کی اشیاء بدل تی رہیں گی مگر عقیدہ وہی رہے گا جو آقا کریم

 ﷺ سے صحابہ کرام، اہلِ بیت اطہاراور اسلاف کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے،

پروگرام کی نظامت حضرت مولانا حافظ و قاری محمد توحید رضا علیمی صاحب نائب صدر نوری فاؤنڈیشن علماء فیڈریشن نے انجام دی۔ اس موقع پرالحاج سید سجاد احمد آمری صاحب نے علمائے کرام اور معزز مہمانوں کا شال پوشی و گل پوشی کے ذریعے استقبال کیا، جبکہ صلاۃ و سلام کا نذرانہ بھی پیش کیا گیا۔اختتام پر حضرت علامہ مولاناحافظ وقاری اعجاز احمد مصباحی رضوی صاحب نے دعا فرمائی اور سنی اجتماع کا اختتام ہوا۔ بعد ازاں  نوری فاؤنڈیشن علماء فیڈریشن کی جانب سے شرکاء کے لیے لنگرِ امام حسین رضی اللہ عنہ کا اہتمام کیا گیا۔ آخر میں محمد شبیر احمد آمری صاحب نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر کثیر تعداد میں علمائے اہلِ سنت نے شرکت فرمائی، جن میں حضرت علامہ مولانا سید ربانی صاحب، حضرت علامہ مولانا حسان آمری صاحب، حضرت علامہ مولانا محمد توحید رضا علیمی صاحب، حضرت علامہ مولانا حسین اشرفی صاحب، حضرت حافظ قاری محمد شعیب رضا صاحب، حضرت مولانا عبد الہادی صاحب، حضرت مولانا صادق قادری صاحب، حضرت مولانا افرید صاحب، حضرت مولانا اعجاز احمد مصباحی رضوی صاحب، حضرت مولانا مصور نوری صاحب، حضرت حافظ نوید رضوی صاحب، حضرت مولانا ارشد رضا صاحب سمیت دیگر علمائے کرام شامل تھے۔

اسی طرح عمائدینِ شہر میں الحاج سید سجاد احمد آمری، الحاج محمد شبیر احمد آمری، الحاج مزمل حبیب آمری، الحاج عبدالسلام صاحب، الحاج وسیم اکرم انجینئر  صاحب  سید کریم صاحب، سید ذبیح اللہ صاحب اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی، جبکہ مختلف مقامات سے آئے ہوئے عوام کی کثیر تعداد بھی شریکِ اجلاس رہی۔







Comments

Popular posts from this blog

Gustakh-e-Rasool Nazia Mal'oonah Ke Khilaf Bangalore Mein Noori Foundation Ki Complaint

Janwar To Rozana Zabah Hote Hain . Allah Ne Qurbani Ka Khas Hukm Kyun Diya.

15 August Independence day 2025 Urdu Article