Masjid-e-Qadria Bengaluru Me Sunni Tanzimoon Ki Janib Se A. Ameer Jan Qadri Marhoom Ki Yaad Me Kamyab Duaiya Nishast

 بنگلور کی تمام سنی تنظیموں، مساجد اور مدارس کے زیرِ اہتمام الحاج امیر جان قادری مرحوم کے لیے دعائیہ نشست؛ کارناموں پر تفصیلی روشنی۔



انسان اپنے اخلاق، کردار اور دین و ملت کے لیے کی گئی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک عظیم شخصیت محترم امیر جان قادری صاحب مرحوم (نور اللہ مرقدہ) کی تھی، جن کی یاد میں 11 ستمبر 2026 بروز جمعہ، بعد نمازِ عشاء، مسجدِ قادریہ (ملرس روڈ، بنگلور) میں ایک پروقار اور پروجوش تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔

یہ عظیم الشان تعزیتی نشست شہرِ بنگلور کی تمام سنی تنظیموں، دینی اداروں اور جملہ مساجد و مدارس کے ذمہ داران اور سرکردہ شخصیات کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کی گئی تھی، جس میں عوام و خواص نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلامِ پاک کی برکتوں سے ہوا۔بعدہ، جامعہ حضرت بلال (مرکزِ اہل سنت) کے متعلم اور دیگر نعت خوانوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم گنگنانے کی سعادت حاصل کی۔


اس اہم اور تاریخی پروگرام کی نظامت کے فرائض جلوسِ محمدی کمیٹی بنگلور کے سکریٹری، عالی جناب الحاج افسر بیگ قادری صاحب نے نہایت احسن اور دلنشین طریقے سے انجام دیے۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے قدیم و جدید علماء و اکابرینِ اہل سنت کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ مایاناز علمائے کرام اور بزرگوں نے، جو الحاج امیر جان قادری صاحب مرحوم کے ساتھ 35 سے 40 سال تک سفر و حضر اور دین و مسلک کے ہر موڑ پر ساتھ رہے تھے، مرحوم کی زندگی کے حسین گوشوں، ان کے ساتھ بیتے ہوئے یادگار لمحوں اور ان کی لازوال دینی خدمات کو پیش کر کے پرانی یادوں کو تازہ کر دیا۔


مولانا ارشد رضا صاحب کا بیان:تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے محترم مولانا ارشد رضا صاحب نے الحاج امیر جان قادری صاحب مرحوم کی تنظیمی و انتظامی صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امیر جان صاحب مرحوم بیک وقت کئی سنی مساجد اور دینی مدارس کی سرپرستی فرماتے تھے اور ان کی دیکھ بھال میں پیش پیش رہتے تھے۔ انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا کہ مرحوم کا قائم کردہ "جامعہ حضرت بلال" ایک ایسا عظیم دینی ادارہ ہے جو ان کے لیے آخرت میں ہمیشہ قائم رہنے والا ثوابِ جاریہ (صدقہ جاریہ) ثابت ہوگا۔

مولانا ظہیر الدین صاحب کا بیان:

مولانا ظہیر الدین صاحب نے اپنے مخصوص اور فکر انگیز انداز میں مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے زندگی اور آخرت کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے ایک انتہائی گہری اور حکمت سے بھرپور بات کہی کہ: "اگر ہم زمین کے اوپر (دین اور انسانیت کے لیے) کام کریں گے، تو کل زمین کے اندر (قبر میں) ابدی آرام و سکون پائیں گے"۔ انہوں نے امیر جان صاحب کی زندگی کو اس کی ایک بہترین مثال قرار دیا جنہوں نے دنیا میں رہ کر آخرت کا بہترین سامان کیا۔


محترم مولانا حسین اشرفی صاحب نے کہا کہ آج اس تعزیتی نشست میں جو اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ہیں، یہ سب الحاج امیر جان صاحب مرحوم کی مخلصانہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ان کاوشوں اور دینی جذبوں کے پیچھے ان کے والدین اور ان کے اساتذہ کی بہترین تربیت اور دعائیں شامل ہیں۔ اسی دوران الجامعۃ النوریہ مڑیوال بنگلور کے مہتمم، مولانا شبیر احمد رضوی صاحب کا تعزیتی پیغام بھی پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے اپنی ناسازیِ طبیعت کی وجہ سے شرکت نہ کر پانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر میں صحت مند ہوتا تو اس مبارک و پروقار محفل میں ضرور تشریف لاتا۔


مولانا شافع سعدی صاحب نے امیر جان صاحب مرحوم کے ایک تاریخی کارنامے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1500 سالہ میلاد النبی ﷺ کے عظیم تاریخی موقع پر، اےامیر جان قادری صاحب مرحوم نے عالی جناب ضمیر احمد خان صاحب کو اپنے ساتھ لے کر ایک نہایت ہی عظیم الشان اور یادگار میلاد النبی ﷺ کا پروگرام منعقد کروایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آج کرناٹک کے مختلف علاقوں میں امیر جان صاحب کے لیے دعائیہ تقریبات منعقد ہو رہی ہیں اور لوگ انہیں یاد کر رہے ہیں۔


مولانا غلام مختار قادری صاحب نے شرعی اور اخلاقی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شریعتِ مطہرہ، قرآن اور حدیثِ پاک میں مرحومین کی برائی کرنے سے سخت منع کیا گیا ہے، بلکہ ان کی اچھائیوں اور دین کے لیے کیے گئے کاموں کو یاد رکھنا چاہیے۔


مولانا فیاض علی رضوی صاحب نے جامعہ حضرت بلال کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس مبارک ادارے کا سنگِ بنیاد خود "حضور تاج الشریعہ" نے رکھا تھا اور امیر جان صاحب نے علامہ ارشد القادری اور علامہ شاہد میاں جیسی عظیم شخصیات کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا ہے۔ انہوں نے جہاں کہیں بھی مسجد کی ضرورت دیکھی، وہاں مساجد کی تعمیر کروائی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مرحوم نے مفتیِ کرناٹک علامہ انوار علی حشمتی صاحب کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل کی تھی، اور جب مفتیِ کرناٹک کا عرس کاموقع آیا، تو امیر جان قادری صاحب مرحوم خود قاری ذوالفقاررضا نوری صاحب سے تاکیداً کہتے تھے کہ "ہمیں عرس میں ضرور جانا ہے۔


مفتی مراد علی رضوی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان ہمیشہ اپنے کام اور اخلاص سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ امیر جان قادری صاحب مرحوم نہ صرف ہمدردِ قوم و ملت تھے بلکہ وہ دل میں دردِ سنیت بھی رکھتے تھے۔ حاجی صاحب مرحوم جامعہ حضرت بلال میں ہمیشہ اکابر علمائے اہل سنت کو مدعو کرتے تھے اور عوام الناس کے لیے ان کے علم و فیض سے استفادے کا بہترین ذریعہ مہیا فرماتے تھے۔


سنی دعوتِ اسلامی بنگلور کے نگراں قاری عظمت اللہ رضوی صاحب نے تعزیتی نشست میں تحریک کے امیرسنی دعوت اسلامی، علامہ شاکر علی نوری صاحب کا خصوصی تعزیتی پیغام پہنچایا اور کہا کہ امیرسنی دعوت اسلامی اور تمام سنی دعوتِ اسلامی کے ارکان و ذمہ داران کی جانب سے مرحوم کے لیے گہرے رنج و غم کا اظہار اور تعزیت پیش کی جاتی ہے۔

پروگرام کے آخر میں جامعہ حضرت بلال کے فعال استاد اور مسجد بلال (ٹیانری روڈ) کے خطیب وامام، حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری ذوالفقار رضا نوری صاحب نے نہایت رقت آمیز انداز میں مرحوم کی زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو آشکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امیر جان صاحب نے اپنی زندگی میں دین کے لیے بڑی کاوشیں کیں۔ انہوں نے ذریعے معاش کے لیے حلال کاروبار میں بہت محنت کی، لیکن ان کا پورا رجحان اور خیال ہمیشہ اہل سنت کی ترویج و اشاعت کی طرف رہا، جس کے لیے انہوں نے جامعہ کا قیام کیا۔ سن 2003 میں فقیہ النفس علامہ مفتی مطیع الرحمن کے دستِ مبارک سے "دارالقضاء" کا قیام عمل میں لایا گیا اور لڑکیوں کی دینی تعلیم کے لیے "جامعۃ البنات" کا مدرسہ بھی قائم کیا۔ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ علمائے اہل سنت اور قوم کے عمائدین مل جل کر کام کریں۔ قاری صاحب نے کہا کہ وہ کسی علمی گھرانے میں پیدا نہیں ہوئے تھے، لیکن انہوں نے ایسا عظیم کام کیا کہ آج ان کی تعزیت میں علمائے اہل سنت، عمائدین اور عوام الناس کی اتنی بڑی اکثریت حاضر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے انہیں 25 سالوں سے بہت قریب سے دیکھا ہے، وہ ہمیشہ مسلک کی فکر میں رہتے تھے۔ ہم ان کے چہلم کے موقع پر، آنے والی 3 اکتوبر کو مسجد حضرت بلال ٹیانری روڈ بنگلور کے سامنے پورے کرناٹک کے اکابر علمائے اہل سنت کو مدعو کر کے ایک عظیم الشان پروگرام منعقد کریں گے


نشست کے اختتام پر جناب اعجاز حسینی صاحب نے جذباتی انداز میں اپنے دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے سن 1985 سے لے کر آج سن 2026 تک ان سے 41 سالہ انتہائی گہرا اور مخلصانہ تعلق رہا ہے۔ امیر جان صاحب ایک سچے مردِ مجاہد تھے، ان کے کارنامے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کے لیے یہ ایک نشست بالکل نا کافی ہے۔ اس لیے ان کے کارناموں اور سوانح حیات کو ایک مکمل کتابی شکل میں پیش کیا جائے گا"۔ پروگرام کے اختتام پر اس تعزیتی نشست میں موجود تمام ذمہ داران کی موجودگی میں ایک اہم قرارداد بھی منظور کی گئی۔

تعزیتی نشست میں بنگلور کی معروف شخصیت عالی جناب روشن بیگ صاحب نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ انہوں نے الحاج امیر جان قادری صاحب مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے دیرینہ اور گہرے تعلقات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم دونوں بہت گہرے دوست تھے، امیر جان صاحب نہایت عمدہ اخلاق اور محبت کرنے والے انسان تھے، ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت ہمیشہ یاد رہے گا۔


اس مبارک تعزیتی نشست میں عالی جناب سید معید الرحمن صاحب،عالی جناب افسر بیگ قادری صاحب عثمان شریف صاحب، سید سجاد احمد آمری صاحب الحاج سید عبدالواجد صاحب عالی جناب برکت اللہ صاحب،الحاج سیف الدین چاند صاحب،الحاج اسداللہ خان صاحب،الحاج اکبر صاحب،الحاج الیاس صاحب،الحاج عنایت اللہ صاحب،عالی جناب چندن صاحب،الحاج امتیاز صاحب،الحاج ایوب شہزادے مرحوم سید وحید الرحمان صاحب صاحب،اور شہر کے کئی دیگر اداروں کے ذمہ داران و عمائدینِ شہر شامل تھے۔


 اس موقع پر عالی جناب اے امیر جان قادری صاحب کے چاروں صاحبزادے: الحاج ایوب خان صاحب، الحاج آصف خان صاحب، الحاج انیس خان صاحب اور الحاج عزیز خان صاحب بھی موجود تھے، اور باقی تمام ادارے اور دیگر متعلقین اس دکھ کی گھڑی میں شاملِ حال رہے۔


اس مبارک محفل میں کثیر تعداد میں علمائے اہل سنت بنگلور حاضر رہے، جن میں درج ذیل علمائے کرام تشریف فرما تھے:علامہ مفتی سید ذبیح اللہ شاہدی صاحب حضرت علامہ محمد ماہ زماں صاحب نوری حضرت علامہ حضرت علامہ ناصر رضاخان رضوی صاحب حضرت علامہ مفتی مراد علی صاحب رضوی حضرت مولانا ظہیر الدین قادری صاحب مولانا امان اللہ مصباحی صاحب

حضرت حافظ و قاری مولانا محمد توحید رضا علیمی صاحب حافظ و قاری جاوید جمالی صاحب  صاحب حضرت مولانا حسین اشرفی صاحب حضرت مولانا عبد المعبود صاحب حضرت مولانا عبد الرزاق صاجب،حضرت مولانا عبد المنان صاحب،حضرت قاری محمد شبیر احمد صاحب فیضی،حضرت قاری شفیق احمد صاحب حضرت قاری رئیس احمد صاحب،بھی کثیر تعداد میں علماء کرام موجود رہے










Comments

Popular posts from this blog

Sunni Ijtema Panjatan e Paak Ke Naam ka Kamiyab Ikhtetam Masjid e Rasoolullah صلی اللہ علیہ وسلم

Gustakh-e-Rasool Nazia Mal'oonah Ke Khilaf Bangalore Mein Noori Foundation Ki Complaint

NFUF Ke Zire Ehtemam Masjid e Rasoolullah ﷺ Mein Isteqbal e mahe Rabi un Noor Aur Urs e Ala Hazrat Ki Kamyab Mahfil