Janwar To Rozana Zabah Hote Hain . Allah Ne Qurbani Ka Khas Hukm Kyun Diya.
جانور تو روزانہ ذبح ہوتے ہیں، اللہ نے قربانی کا خاص حکم کیوں دیا؟
قربانی کا اصل مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں؛ کیا آپ نے اپنے نفس کی قربانی پیش کی؟
خصوصی مضمون برائے عید الاضحیٰ
یومِ عرفہ کے مبارک اور سعید موقع پر، بعد نمازِ فجر، شہر بنگلور کی معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت حافظ و قاری مولانا محمد توحید رضا علیمی صاحب کا روزانہ کا درس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے عوام الناس کے لیے قربانی کے فلسفے پر ایک انتہائی بصیرت افروز، لاجواب اور ناصحانہ بیان فرمایا۔ مولانا موصوف نے اپنے درس میں عام ڈگر سے ہٹ کر ایسے دلائل اور ایمان افروز نقطے پیش کیے، جنہوں نے حاضرینِ مجلس کو سوچنے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
قربانی کا اصل مقصد: جانور کے پردے میں نفس کی قربانی۔ مولانا توحید رضا علیمی صاحب نے عوام کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھا کہ:کیا صرف جانور ذبح کرنا ہی قربانی کا اصل مقصد ہے؟ یا اس جانور کی آڑ میں کوئی اور گہرا مقصد پوشیدہ ہے، جسے ہر سال صاحبِ نصاب پر واجب قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں روزانہ ہزاروں حلال جانور ذبح ہوتے ہیں اور انسان ان کا گوشت کھاتے ہیں، لیکن سال کے مخصوص تین دنوں (ایامِ قربانی) میں ذبح کرنے کو خاص طور پر واجب کیوں کیا گیا؟
اطاعتِ الٰہی کا نمونہ: قربانی کا اصل مقصد صرف راہِ خدا میں جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ جانور کے پردے میں انسان کو یہ سبق دینا ہے کہ جس طرح یہ بے زبان جانور اللہ کے نام پر، اس کی اطاعت میں گردن جھکا کر ذبح ہو رہا ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اللہ کے حضور اپنے شریر نفس کی قربانی پیش کرنی چاہیے۔
رذائلِ نفسانی کا خاتمہ: انسان کو چاہیے کہ وہ اس جانور کے ساتھ ساتھ اپنے اندر چھپے تکبر، گھمنڈ، غرور، انانیت، حسد، جلن اور باہمی کینہ پروری کو بھی ذبح کر دے۔
پاکیزہ توبہ کی ضرورت: جو نفسانی خواہشات انسان کو زنا، گندگی اور بدنگاہی کی طرف ابھارتی ہیں، ان خواہشات کو راہِ خدا میں قربان کر کے رب کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنی چاہیے۔ انسان کو جانور ذبح کرتے وقت یہ عہد کرنا چاہیے کہ:یا اللہ! جس طرح یہ جانور آج ذبح ہوا ہے، اسی طرح میں اپنے برے خیالات، برے اوصاف اور گناہوں کو ہمیشہ کے لیے ذبح کر کے ان سے سچی توبہ کرتا ہو۔ یہی قربانی کی اصل روح ہے۔
روزانہ ذبح ہونے کے باوجود حلال جانوروں کی کثرت:
اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا مقتضا
مادی و سائنسی اصول یہ کہتا ہے کہ جو شئی جتنی زیادہ ختم کی جائے، وہ اتنی ہی جلدی مٹ جاتی ہے۔ اس کے برعکس، روزانہ لاکھوں حلال جانوروں کا ذبح ہونا اور پھر بھی ان کی تعداد کا بڑھتے چلے جانا مادی اسباب سے ہٹ کر ایک غیبی حقیقت ہے۔ یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہاں دنیا کا قانون نہیں، بلکہ اللہ کی قدرتِ کاملہ کا مقتضا ہے جو اپنے نام پر قربان کیے جانے والے جانوروں کی نسل کبھی ختم نہیں ہونے دیتا۔
کثرتِ اولاد کے باوجود بے برکتی: دنیا میں حرام یا غیر حلال جانور (جیسے کتیا یا سور وغیرہ) ایک وقت میں کئی کئی بچے جنتے ہیں، لیکن اتنی بڑی تعداد میں بچے پیدا کرنے کے باوجود دنیا میں کبھی ان کے ریوڑ نظر نہیں آتے اور نہ ہی ان کی تعداد میں وہ برکت نظر آتی ہے۔ذبح ہونے کے باوجود کثرتِ نسل: اس کے برعکس، بکری یا دیگر حلال جانور سال میں صرف ایک یا دو بچے دیتے ہیں، اور پوری دنیا میں سال بھر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں ذبح کیے جاتے ہیں۔ خاص طور پر قربانی کے تین دنوں میں تو اتنے جانور ذبح ہو جاتے ہیں جتنے شاید سال بھر میں بھی نہیں ہوتے۔ لیکن اس کے باوجود حلال جانوروں کی تعداد کم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتی ہی چلی جاتی ہے: اس سے یہ عظیم نکتہ معلوم ہوا کہ جو راہِ خدا میں ذبح (قربان) ہو جائیں، اللہ تعالی ان کی تعداد میں برکت ڈال دیتا ہے اور ان کی نسلوں کو ہمیشہ زندہ اور باقی رکھتا ہے۔
میدانِ کربلا اور بقائے اہل بیتِ نبوت
قربانی کی اسی برکت کو تاریخِ اسلام کے عظیم ترین واقعے سے جوڑتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ یہی برکت اور بقا کا اصول میدانِ کربلا میں بھی نظر آیا:
ظالموں کی باطل سوچ: کربلا کے خونی معرکے سے پہلے نواسہ رسول حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا، اور پھر میدانِ کربلا میں امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جاں نثاروں کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ ظالموں نے یہ سوچا تھا کہ اہل بیتِ نبوت کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا ہے اور اب ان کی نسل آگے نہیں بڑھ پائے گی۔حق کی فتح اور بقا: لیکن قربانی کی برکت دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے ذریعے ساری دنیا میں اس شہادت اور قربانی کی وہ برکت دکھائی کہ آج ظالموں کا نام و نشان مٹ چکا ہے، جبکہ خانوادۂ رسول ﷺ کے چشم و چراغ، ساداتِ کرام اور سید زادیاں دنیا کے چپے چپے میں زندہ و تابندہ ہیں۔
سنتِ ابراہیمی کا پیغام اور تقویٰ کی اہمیت
بیان کے آخری حصے میں حضرت مولانا توحید رضا علیمی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی کا تذکرہ فرمایا: یہ قربانی دراصل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وہ عظیم سنت ہے جو اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے چلے تھے، لیکن اللہ رب العزت نے پوری امتِ مسلمہ پر احسان فرمایا اور دنبہ بھیج کر یہ واضح کر دیا کہ اسلام میں انسان کا ذبح ہونا مقصود نہیں، بلکہ انسان کا اپنی خواہشات کو اللہ کی اطاعت میں ذبح کرنا مقصود ہے۔
بارگاہِ الٰہی میں تقویٰ کی قبولیت: مولانا نے قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ اس کا خون، بلکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں بندے کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ گوشت انسان خود کھاتا ہے اور خون زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے۔
قربانی میں للہیت کی ضرورت: انہوں نے زبردست تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آئیے، اس مرتبہ کی قربانی کو خالص للہیت، خلوصِ نیت اور تقویٰ کے ساتھ ادا کریں۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی دکھاوے، بغیر ریاکاری، بغیر شور شرابے اور بغیر نام و نمود (سوشل میڈیا پر واہ واہ کروانے) کے، صرف اور صرف اللہ کی رضا کی خاطر، پیارے آقا ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے اور سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرنے کے لیے جانوروں کی قربانی پیش کی جائے۔ یہی قربانی کا اصل، حقیقی اور آخری مقصد ہے
تحریر۔ محمد توحید رضا علیمی بنگلور
امام مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
خطیب مسجد رحیمیہ میسور روڈ بنگلور
نائب صدر نوری فاؤنڈیشن علماء فیڈریشن کرناٹک
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ
نوری فائونڈیشن بنگلور
tauheedtauheedraza@gmail.com

Comments
Post a Comment