Namaz E Taraweeh Me Hafiz e Quran ki Chupi Mehnat
Namaz E Taraweeh Me Hafiz e Quran ki Chupi Mehnat
نمازتراویح میں حافظ قرآن کی چھپی محنت
تحریر: محمد توحیدرضاعلیمی بنگلور
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے ہر ہر لمحے برکتیں لٹا رہا ہے۔ شہر ہو یا دیہات، گھر ہو یا بازار، ہر سو شریعتِ مصطفیٰ ﷺ کی بہاریں نظر
آ رہی ہیں۔ مسلمانوں میں عبادت و ریاضت کا ایک نیا جذبہ بیدار ہے۔ مسجدیں نمازیوں سے آباد ہیں، سروں پر ٹوپیاں، اسلامی لباس، نظروں کی حفاظت، راست گوئی اور ضرورت مندوں سے ہمدردی کے مناظر دیکھ کر بے اختیار زبان سے ‘سبحان اللہ’ نکلتا ہے۔ دوسری طرف خواتینِ اسلام پردے کا اہتمام، خوش مزاجی اور عبادات کے ساتھ ساتھ گھریلو کام کاج اور بچوں کی تربیت کو مسکراہٹ کے ساتھ انجام دے کر رمضا ن المبارک کی برکتوں مالا مال ہورہی ہیں ۔
اسی مبارک مہینہ میں قیام اللیل کی صورت میں نمازِ تراویح ادا کی جاتی ہے، جس کی بدولت مساجد میں کلامِ الٰہی کی نورانی صدائیں گونجتی ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس مصلے کی تپش کو محسوس کیا ہے جس پر ایک حافظِ قرآن تنِ تنہا ڈیڑھ سے دو گھنٹے کھڑا رہتا ہے؟ ہم مقتدی تو بیس رکعتوں کے بعد فارغ ہو جاتے ہیں، مگر وہ مصلے کا امین اپنی ذمے داریوں کے حصار میں سحری سے افطار اور افطار سے سحری تک قرآن کی دہرائی میں قید رہتا ہے۔
حافظِ قرآن کی مشقت:
حافظِ قرآن بننا کوئی آسان کام نہیں، اہل علم نے اسے ‘لوہے کے چنے چبانے’ اور ‘سات سمندر پار کرنے’ کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ اس کٹھن مجاہدے کی عکاسی ہے جس سے ایک حافظ گزرتا ہے۔ ‘لوہے کے چنے چبانا’ اس ذہنی مشقت کی علامت ہے جہاں اسے چھے ہزارچھے سو چھاسٹھ آیات کو زیر و زبر کی غلطی کے بغیر سینے میں محفوظ کرنا پڑتا ہے، اور ‘سات سمندر پار کرنا’ اس طویل اور صبر آزما سفر کا نام ہے جس میں وہ اپنے بچپن کی رنگینیاں، والدین کی ممتا اور گھر کا آرام مدرسے کی چہار دیواری میں قربان کر دیتا ہے۔
ایک حافظ بننے کے لیے برسوں کی محنت، اساتذہ کی سختی و محبت اور اپنوں سے دوری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ قوم نے شاید ایک حافظ کے حقیقی مرتبے اور اس کی قربانی کو صحیح معنوں میں پہچانا ہی نہیں۔ مصلے پر کھڑا وہ حافظ جب بیس رکعتوں میں سوا یا ڈیڑھ پارہ سناتاہے، تو وہ محض ایک ‘آٹو میٹک مشین’ کی طرح تلاوت نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ کلامِ الٰہی کے ایک ایک حرف کا امین بن کر ‘نائبِ رسول ﷺ’ کے عظیم منصب پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ اس کے کندھوں پر جہاں قرآن کی عظمت کا بوجھ ہوتا ہے، وہیں مقتدیوں کی توقعات اور مصلے کی تپش بھی ہوتی ہے، مگر وہ ان تمام آزمائشوں کے باوجود اللہ کے کلام کا حق ادا کرنے کی مخلصانہ کوشش کرتا ہے۔”
حافظِ قرآن کی حقیقی پکار:
رمضان المبارک کے اس مقدس بابرکت باعظمت مہینے میں ایک حافظِ قرآن اپنی تمام تر سماجی اور معاشی مصروفیات کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ وہ اپنے گھر بار، بیوی بچوں اور اپنی جائے پیدائش سے دور، ایک انجان ماحول میں صرف کلامِ الٰہی کی تلاوت اور اس کی حفاظت میں مگن رہتا ہے۔ اس کی یہ ہجرت اور یہ تنہائی صرف اس لیے ہے کہ وہ ہمیں اللہ کا کلام سنا سکے۔ ایسے میں حافظِ قرآن پر ذرا ذرا سی بات پر تنقید کرنا یا ان پر دباؤ بنانا، نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ ان کی خدمت کی ناقدری ہے۔
ہماری اصل ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم انہیں حوصلہ فراہم کریں۔ جہاں انسانی کمزوری کی بنا پر کوئی لغزش ہو جائے، وہاں درگزر سے کام لیں اور نماز کے بعد محبت سے ان کی ہمت بندھائیں کہ: ماشائاللہ حافظ صاحب! آپ بہت اچھا اور خوش الحانی سے پڑھا رہے ہیں۔ آپ کے یہ چند تعریفی کلمات ان کے سینے میں حوصلے کی نئی روح پھونک دیں گے اور وہ مزید پختگی و دلجمعی کے ساتھ قرآن سنانے کے لیے آمادہ ہوں گے۔
یاد رکھیے! بارگاہِ الٰہی میں وہی نمازیں مقبولیت کا درجہ پاتی ہیں جو” اطمینانِ قلب” کے ساتھ ادا کی جائیں۔ ذرا سوچئے، اگر مصلے پر کھڑا حافظ مقتدیوں کے دباؤ اور جملوں کی وجہ سے قلبی طور پر پریشان ہوگا اور نماز کے دوران بھی وہی دباؤ محسوس کرے گا، تو پھر مقتدیوں کی اپنی نمازوں کا کیا حال ہوگا؟ جب امام کا ذہن منتشر ہو تو مقتدی کا سکون کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟اس لیے امامِ مسجد اور حافظِ قرآن کو ہر اعتبار سے خوش اور مطمئن رکھیے؛ کیونکہ جب ان کا دل مطمئن ہوگا، تبھی وہ پورے خشوع و خضوع اور اطمینانِ قلب کے ساتھ نماز پڑھا
سکیں گے، جس کی برکت پوری جماعت کو نصیب ہوگی۔
توقعات و نفسیاتی دبائو اور عوامی رویے
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ حافظِ قرآن پر تنقید کرنے والے بعض حضرات کو خود چند چنندہ سورتیں بھی صحیح سے یاد نہیں ہوتیں۔ جب وہ خود قرآن پڑھتے ہیں تو لفظی غلطیوں کی بھرمار ہوتی ہے، تلاوت تجوید سے خالی ہوتی ہے، مخارج کی ادائیگی کا علم نہیں ہوتا اور پڑھنے کا انداز بھی متاثر کن نہیں ہوتا۔ لیکن قربان جائیے ان ”کرم فرماؤں” کے کہ وہی لوگ مصلے پر کھڑے حافظِ قرآن کو قرآن پڑھانے کے طریقے سکھاتے نظر آتے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ۔الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔
بعض مقتدی حضرات حافظ کو انسان کے بجائے ایک ‘آٹومیٹک مشین’ سمجھ لیتے ہیں، جس کا کام صرف بٹن دبانے پر تلاوت شروع کرنا ہے۔ اگر تلاوت کے دوران انسانی تقاضے کے تحت کہیں ‘متشابہات’ (ملتی جلتی آیات) کی وجہ سے حافظ صاحب رک جائیں یا کوئی لغزش ہو جائے، تو تراویح کے بعد طعنوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ: ”حافظ صاحب کو منزل یاد نہیں”۔ ایسے لوگوں کو حافظ کا چند سیکنڈ کے لیے رکنا بھی پہاڑ کی طرح گراں گزرتا ہے۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اس وقت اس مصلے کے امین کے ذہن پر کتنا شدید دباؤ ہوتا ہے؟ اسے رکعتوں کا حساب بھی رکھنا ہے، اگلی منزل کو بھی ذہن میں حاضر رکھنا ہے، اور پیچھے کھڑے سینکڑوں لوگوں کے مختلف مزاجوں کا بوجھ بھی جھیلنا ہے—جن میں سے کوئی ”تیز” پڑھنے کا متمنی ہے تو کوئی ”آہستہ” پڑھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
ان تمام باتوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حافظِ قرآن کوئی بے جان مشین نہیں بلکہ گوشت پوست کا انسان ہے، جس پر ربِ کائنات کا یہ خاص کرم اور فضل ہےکہ اللہ پاک نے اپنے مقدس کلام کو ان چنندہ بندوں کے سینوں میں محفوظ فرما دیا ہے۔یہ وہی قرآن ہے جس کے بارے میں خود رب تعالیٰ فرماتاہے کہ ۔اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اُتارتے تو ضرور اُسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے۔ترجمہ کنزالایمان۔مگر قربان جائے اس حافظ قرآن کے سینہ نورانی پر جس نے اس کلام الٰہی کو نہ صرف اپنے اندر سمو لیا بلکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنے سرلے لی ہے۔ یہ وہ اعزاز ہے جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا، اس لیے اس کی بشری کمزوریوں پر گرفت کرنے کے بجائے اس کے سینے میں موجود ‘کلام الٰہی’ کا احترام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
حافظِ قرآن کا اخروی مرتبہ: شفاعت کا حق اور والدین کا اعزاز
جہاں دنیا میں ایک حافظِ قرآن کو مصلے کی تپش اور عوامی رویوں کی تلخی برداشت کرنی پڑتی ہے، وہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بروزِ قیامت اسے وہ مقامِ رفیع عطا فرمایا ہے جس کا تصور کر کے ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں حافظِ قرآن کے اس بلند مرتبے کی واضح نوید موجود ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔جس نے قرآن پڑھا اور اسے حفظ کیا، اس کے حلال کو حلال جانا اور اس کے حرام کو حرام جانا، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھرانے کے ایسے دس افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔” (سنن ترمذی، مشکوٰۃ المصابیح)
سبحان اللہ! ذرا سوچیے، وہ حافظ جس کے مصلے پر چند سیکنڈ رکنے پر ہم تنقید کرتے ہیں، کل قیامت کے ہولناک دن میں وہی اپنے خاندان کے لیے نجات کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔ جس کے سینے میں موجود قرآن کی برکت سے اللہ تعالیٰ جہنم کے مستحق افراد کو بھی معاف فرما دے گا، کیا ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم اس کے مرتبے کو پہچانے بغیر اس کی دل شکنی کریں؟
صرف یہی نہیں، بلکہ حافظِ قرآن کی بدولت اس کے والدین کو بھی وہ وقار ملے گا جو کائنات میں کسی اور کے حصے میں نہیں آئے گا۔ مسند احمد (حدیث: 22950) میں سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قیامت کے دن حافظِ قرآن کے سر پر ‘تاج الوقار’ رکھا جائے گا اور اس کے والدین کو ایسا قیمتی لباس پہنایا جائے گا کہ پوری دنیا مل کر بھی اس کی قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکے گی۔ جب وہ حیرت سے پوچھیں گے کہ ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا؟ تو جواب ملے گا: ‘تمہاری اولاد کے قرآن حفظ کرنے کی وجہ سے’۔ پھر حافظ سے کہا جائے گا: پڑھو اور جنت کے درجات پر چڑھتے جاؤ، وہ جب تک پڑھتا رہے گا، جنت کے بالا خانوں کی بلندیوں کو چھوتا جائے گا۔
حاصل کلام
جو شخصیت کل قیامت کے دن آپ کے پورے گھرانے کی بخشش کا پروانہ بن سکتی ہے، کیا آج اسے معمولی بشری تقاضوں پر نشانہ بنانا عقل مندی ہے؟ اللہ پاک نے اپنے کلام کو اس کے سینے میں محفوظ کر کے اسے پوری کائنات میں ممتاز کر دیا ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے حفاظِ کرام کا بھرپور تعاون کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں وہ احترام دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ اگر ہم انہیں ایک پرسکون ماحول فراہم کریں گے،تو ان کے مصلے سے نکلنے والی قرآن کی برکات سے ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی۔
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم ﷺ کے صدقے و طفیل ہمیں اہلِ قرآن کی سچی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
تحریر۔محمد توحیدرضاعلیمی بنگلور
امام: مسجد رسولُ اللہ ﷺ خطیب ۔ مسجد رحیمیہ میسور روڈ جدید قبرستان بنگلور
مہتمم دارالعلوم حضرت نظا م الدین رحمۃ اللہ علیہ و نوری فائونڈیشن بنگلور
9886402786
https://share.google/q9bL00m0MPyxgqkhR
نمازتراویح میں حافظ قرآن کی چھپی محنت — https://mashreqiawazjadeed.in/2026/02/25/23386/
.jpeg)
.jpg)


.jpg)





.jpg)
Comments
Post a Comment