Aamad e Ramazan 2026 New Article


 

رمضان کا استقبال فرمانِ رسول ﷺ وطریقہ صحابہ وصفائی قلوب کے ساتھ کریں

تحریر ۔محمد توحید رضا علیمی بنگلور

رمضان المبارک قمری مہینوں میں سے نواںمہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے ،حدیث ِ مبارک میں ہے کہ ماہِ رمضان شہرُ اللہ یعنی اللہ کا مہینہ ہے ،جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک مہینہ سے رب ِ ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جُدا ہے اس ماہ سے خصوصی تعلق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیاتِ خاصہ اس مبارک ماہ میں اس درجہ نازل ہوتی ہیں گویا موسلادھاربارش کی طرح برستی رہتی ہیں شعب الایمان للبیہقی فضائل شھر رمضان مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصوم زجاجۃ المصابیح کتاب الصوم جلد اول میںحدیثِ مبارکہ موجودہے کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا۔ رمضان ایسا مہینہ ہے کہ اس کے اول حصہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، درمیانی حصہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے ،اور آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے ،اور رمضان میں ہر عبادت کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اس مہینہ میں جس شخص نے نفل عمل کیا وہ اس طرح ہے جس نے اس میں ایک فرض ادا کیا اور جس شخص نے فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینہ میں ستر فرائض اد اکئے ۔اس لئے مسلمان مساجد میں باجماعت نماز ِ پنچ گانہ و نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں ،دوسری عبادت صدقہ و خیرات زکوٰۃ وروزہ وتلاوتِ قرآن وغیرہا اعمالِ صالحہ اپنے اعتبار سے ادا کرکہ ثواب کے مستحق ہوتے ہیں
آمدرمضان سےقبل حضورﷺنےصحابہ کرام کوخوشخبری سنائی

انسانی زندگی میں ہرصاحب سمجھ اور باشعور انسان منصوبہ بندی (پلاننگ)کرتے ہیں اسکولس و کالجس کیلئے نصاب کی تیار ی دراصل وہ اسٹوڈینٹس کی تعلیمی زندگی کے لئے منصوبہ بندی ہے والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں تاجراپنی تجارت کو فروغ دینے کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں جس طرح انسان دنیوی معاملات میں منصوبہ بندی کرتے ہیں اسی طرح ایک مسلمان کو عالم جاودانی میں آرام کے لئے مستقبل کی پلاننگ کرنی چاہئے پارہ ۲۸ سورہ الحشر آیت نمبر ۱۸میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور ہرجان دیکھے کہ کل کے لئے کیا آگے بھیجااور اللہ سے ڈروبے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔(ترجمہ کنزالایمان)تفسیر۔یعنی روز قیامت کے لئے کیا عمل کیا ہے۔جب دنیا کے کاموں میں منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔عصری تعلیم بزنس سیکورٹی اور دیگر دنیوی امور کے لئے منصوبہ بندی کی جاری ہے تو اُخروی معاملات اور دینی امور کے لئے اور زیادہ اہتمام کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے رمضا ن المبارک کی شکل میں نعمت مل رہی ہے تو اس کی قدر دانی کے لئے منصوبہ بندی ہونی چاہئے

استقبال رمضان کا پہلا خطبہ
حضور مصطفی جان ِ رحمت ﷺ نے ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل اس کی عظمت وشان آشکار کی ہے آمد رمضان سے پہلے اس کے فضائل سے متعلق خطبہ ارشاد فرمایا مسند امام احمد بن حنبل میں حدیث پاک موجود ہے ۔سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور خاتم النبئین ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا قد جآء کم شھررمضان یعنی تمہارے پاس ماہ رمضان کی آمد آمد ہے شھرمبارک یعنی یہ ایک برکت والا مہینہ ہے ،افترض اللہ علیکم صیامہ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں ۔یفتح فیہ ابواب الجنہ یعنی اس میں جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ۔ویغلق فیہ ابواب الجحیم یعنی دوزخ کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ۔وتغل فیہ الشیاطین یعنی شیاطین کو قید کردیاجاتاہے ۔فیہ لیلۃ خیرمن الف شھریعنی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔من حرم خیرھافقدحرم یعنی جوشخص اُس رات کی بھلائی سے محروم رہاتوحقیقت میں وہ محروم رہ گیا۔(مسند امام احمد بن حنبل حدیث ۹۲۲۷)ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی جنت کے دروازوں کا کھولا جانا بتلارہاہے کہ جو لوگ ماہ رمضان میں نیکیاں کریں گے اُن کے لئے جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں جنت میں داخلہ اُن کے لئے طے ہے اور رمضان کی آمد پر دوزخ کے دروازوں کا بند کیاجانا اشارہ دے رہا ہے کہ اس ماہ مبارک میں نیک عمل کرنے والوں کے لئے دوزخ کے دروازے بندہیں اُن کاٹھکانہ تو جنت ہے

استقبال رمضان کا دوسرا خطبہ













حضور مصطفی جان رحمت ﷺ نے ماہ رمضان کے بارے میں تمہید کے ساتھ بیان فرماکر اس غیر معمولی اہمیت کوواشگاف فرمایا۔جیسا کہ صحیح ابن خزیمہ میں روایت ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ۔ ایک (آنے والا) تمہارے سامنے آرہاہے اور تم اُس کا استقبال کروگے ثلاث مرات یعنی یہ جملہ حضور ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی وحی نازل ہوئی ہے؟ قال لا یعنی حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ عرض کی کیا کوئی دشمن آیاہے؟ فرمایا نہیں عرض کی توپھر کیاواقعہ پیش ہونے ولا ہے ؟ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمایا (ماہ رمضان کی آمد آمد ہے)یقینا اللہ تعالیٰ ماہ رمضان کی پہلی رات اس قبلہ کو ماننے والے تمام اہل ایمان کی مغفرت فرمادیتاہے حضور ﷺ نے ارشاد مرماتے وقت اپنے دست مبارک سے قبلہ کی جانب اشارہ فرمایا۔( صحیح ابن خزیمہ کتاب الصیام فضائل شھررمضان )
رمضان کا مہینہ ابھی شروع نہیں ہواتھا آمد رمضان سے قبل حضور ﷺ نے اس کی عظمت کو آشکار فرمایااور مغفرت کا مژدہ سنایا تاکہ اہل ایمان ماہ رمضان کی آمد سے پہلے تیاری کرلیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ رمضان سے پہلے منصوبہ بندی کے ساتھ اس کا استقبال کرنا چاہئے اس کے لمحہ لمحہ سے استفادہ کرنے کے لئے ذہنی وفکری طور پر اور معاشی ومعاشرتی طور پر تیار رہنا چاہئے
عزم مصمم ومنصوبہ بندی کی ضرورت
کسی بھی کام کے لئے عزم مصمم اور منصوبہ بندی اور حاصل کرنے کی کوشش کی ضرورت پڑتی ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان ماہ شعبان میں ہرسطح پرماہ رمضان کی تیاری کرتے عملی اعتبار سے تیاری کے لئے تلاوت قرآن کا خصوصی اہتمام کرتے ۔الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت مذکور ہے ۔کہ آپ نے فرمایا حضور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام جب ماہ شعبان کا چاند دیکھتے تو قرآن شریف کو سینہ سے لگائے رہتے اور تلاوت میں مصروف رہتے مسلمان اپنے اموال کی زکاۃ نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین اس کوحاصل کرکے ماہ رمضان کے روزے رکھنے کی قوت حاصل کرے حکام وذمہ دار ان قیدیوں کو طلب کرتے اور ان میں جوحدشرعی کے مستحق تھے ان پرحدجاری کرتے ورنہ ان کو رہا کردیتے تاجر حضرات اپنے ذمہ جو حقوق ہیں انہیں ادا کردیتے اور جوچیزیں وصول طلب تھیں انہیں حاصل کرلیتے یہاں تک کہ جب رمضان کا چاند دیکھ لیتے تو غسل کرکے یکسوئی کے ساتھ عبادت میں مشغول ہوجاتے ۔مذکورہ روایت سے واضح طور پرمعلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان ماہ شعبان میں ہرسطح پر ماہ رمضان کی تیاری کرتے ۔عملی اعتبار سے تیاری کے لئے تلاوت کلام اللہ کا خصوصی اہتمام کرتے لین دین کے معاملات کی تکمیل کرتے اپنے ذمہ جو حقوق باقی ہیں انہیں ادا کرتے وصول طلب رقوم حاصل کرتے سماجی سطح پرتیاری کرتے صحابہ کرام

علیہم الرضوان اپنی تیاری کے ساتھ ساتھ دوسروں کی تیاری کا لحاظ رکھتے شعبان میں مال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ تنگدست افراد روزہ رکھنے کے لئے زکوٰۃ کی رقوم کے ذریعہ تیاری کرلیں ہرطرح سے تیاری کرنے کے بعد جب ماہ رمضان کا چاند دیکھتے تو ہمہ تن متوجہ ہوجاتے مکمل اہتمام کے ساتھ غسل کرکے عبادت میں مشغول ہوجاتے ۔
ہم رمضان کی تیاری کیسے کریں ؟
اس ماہ مبارک کی عظمت کے پیش نظر بارگاہ الہی میں توبہ و استغفار کرتے ہوئے ماہ رمضان کا استقبال کریں اور اپنے اوقات کو عبادت و ریاضت اور نیک کام کرنے میں صرف کریں تلاوت کلام اللہ کا خوب اہتمام کریں متعلقہ افراد کے حقوق اداکریں معاملات کو صاف ستھرا بنالیں زکوٰۃ ادا کرکے غریبوں کو رمضان کی عبادت کے لئے فارغ ہوجانے کا موقعہ فراہم کریں ان عظمت و سعادت والے لمحات کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کے فیوض و برکات حاصل کریں حضور ﷺ نے ماہ رمضان کی رحمت کے ساتھ اس کی عظمت کو بھی آشکار فرمایا کہ جو مہینہ تم پر سائے فگن ہونے والا ہے وہ رحمتوں والا مہینہ ہے وہ لطف ومہربانی والا مہینہ ہے اور یہ عظمت والا بھی ہے اس کے تقدس و عظمت کا پامال نہ کیا جائے یہ بڑی شان والا مہینہ ہے اس کی قدر دانی کی جائے جو اس کے عظمت و تقدس کو ملحوظ رکھتا ہے اُس پر کرم دوبالا ہوجاتا ہے اور جو اس کی قدر دانی نہیں کرتا وہ رحمت سے دور ہوجاتاہے
تحریر ۔محمد توحید رضا علیمی بنگلور

امام مسجد رسولُ اللہ ﷺ خطیب مسجد رحیمیہ میسور روڈ جدید قبرستان مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ
و نوری فائونڈیشن بنگلور رابطہ۔9886402786
Tauheedtauheedraza@gmail.com

*رمضان کا استقبال فرمانِ رسول ﷺ وطریقہ صحابہ*
*وصفائی قلوب کے ساتھ کریں*

*تحریر ۔محمد توحید رضا علیمی بنگلور*

https://alhilalmedia.com/archives/28076

Comments

Popular posts from this blog

The days of Qurbani have passed, but the message of sacrifice still lives on

15 August Independence day 2025 Urdu Article

Muslimanan-e-Hind qanoon-e-Hind o qanoon-e-Shariat ke alambardaar hain. ✅