The days of Qurbani have passed, but the message of sacrifice still lives on

 قربانی کے دن بیت گئے، مگر قربانی کا پیغام آج بھی زندہ ہے

کیا ہم نے عبادت سے کچھ سیکھا یا صرف رسم نبھائی؟

















*تحریر: محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور9886402786

قربانی کا مقصد صرف جانور کا ذبح کرنا نہیں، بلکہ دلوں کو جھکانا اور زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق سنوارنا ہے۔آج کی صورتِ حال:ایام نحر میںہم ہر سال لاکھوں جانور قربان کرتے ہیں، مگر اپنے نفس، تکبر، خواہشات، اور گناہوں کو قربان نہیں کرتے۔ اپنی ضد، انا، جھوٹ، فریب، خود غرضی کو قربان نہ کر سکے۔قربانی کے گوشت کا ذائقہ ہم نے چکھا، مگر قربانی کے جذبے سے محروم ر ہے اور اس کے روحانی اثرات سے محروم رہے ہم اس عبادت کو محض رسم سمجھ کر ادا کرتے ہیں کہ ہمارے باپ داداکرتے تھے ہم بھی کررہے ہیں، نہیں قربانی یہ حکم ِ خدا ہے اسے عبادت سمجھ کر اللہ پاک کی رضاپانے کے لئے ہی ادا کرناہے ۔قربانی صرف تین دنوں کی عبادت ہے، مگر ہم پورے سال کے فرائض، واجبات، نمازیں، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں کوتاہی کرتے ہیں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، قربانی کرتے ہیں، حج کرتے ہیں ،مگر عبادات کا مقصد یعنی تقویٰ، قربانی کا جذبہ، اللہ کی رضا، اور معاشرتی بھلائی ہم سے دور ہوتی جا رہی ہے۔قربانی کے ایام میں ہم متحرک تھے،عید کی نماز کے لئے عیدگاہ، کئی مساجد، کئی میدان، بندگانے خداسے بھرے ہوئے تھے مگر عیدکی نماز کے بعد مسجدیں پھر ویران ہو گئیں سوائے چندنمازیوں کے،ہم میں قربانی جیسی عظیم عبادت کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔قربانی کی اصل بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ خواب ہے جس میں آپ کو اپنے بیٹے حضرت سماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا:”یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ(سورۃ الصافات: 102)ترجمہ کنزالایمان ،کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتاہے خدانے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔یہ محض ایک عمل نہیں، اطاعت کی بلند ترین مثال اور نفسانی خواہشات کی قربانی تھی۔بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کے بعد رُک نہیں گئے، بلکہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی ازسرنو تعمیر کی۔قربانی کے بعد ان کی زندگی کا نیا باب، عبادت، تعمیر، اتحادسے شروع ہوا ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ(البقرۃ: 127)ترجمہ کنزالایمان۔اور جب اٹھاتا تھا حضرت ابراہیم اس گھر کی نیویں (کعبہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے) اورحضرت اسماعیل علیہ السلام یہ کہتے ہوئے کہ اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما بے شک توہی ہے سنتاجانتا ہے۔

*عظیم عبادت کے پیچھے چُھپا پیغام*
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف اپنے بیٹے کی قربانی نہیں دی، بلکہ آپ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی، اللہ کی توحید کا اعلان کیا، اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنانے کا حکم قرآن میں آیا:وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّٰی (البقرۃ: 125)ترجمہ کنزالایمان۔اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی کو اتنا پسند کیا کہ ان کی یاد کو عبادت کا حصہ بنا دیا۔افسوس کہ قربانی آج کے دور میں ایک رسم بن کر رہ گئی ہے۔ ہم نے قربانی کا جانورخریدا اس کی خدمت کی ، گلیوں میں گھمایا، سوشل میڈیا پر تصاویر ڈالی، مگر قربانی کا حقیقی پیغام یعنی نفس کی قربانی، عاجزی، اور تقویٰ سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس عظیم عبادت کے پیچھے چھپے پیغام کو سمجھتے اور اپناتے بھی ہیںیا نہیں ۔ایسا کیوں ہے کہ ہم سال میں ایک بار قربانی تو ادا کرتے ہیں، مگر زندگی بھر کے لئے فرائض و واجبات سے دور رہتے ہیں۔

*اللہ کی رضا اور تقویٰ کا پیغام*
جانور ہم لاتے ہیں ،قربانی ہم کرتے ہیں ،گوشت ہم تقسیم کرتے ہیں ،گوشت ہم کھاتے ہیں،جانور کی کھال ہم پہنچاتے ہیں،اب ہمارے پاس کیا باقی رہاسب کا سب ہمارے استعمال میں آیا ہے اِس میں اللہ کی بارگاہ میں کیا پہنچا؟ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَٰکِن یَنَالُہُ التَّقْوَیٰ مِنکُم (سورۃ الحج: 37)ترجمہ کنزالایمان ۔اللہ کو ہرگزنہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل روح اللہ کی رضا اور دل کی خلوصِ نیت ہے۔

*نفس کی قربانی*
جانور کی قربانی اصل میں ایک علامت ہے اس اندرونی قربانی کی جو ہمیں اپنی خواہشات، تکبر، جھوٹ، اور لالچ کی صورت میں دینی ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو ہمیں خود احتسابی، تواضع، اور تقویٰ کی طرف لے جاتی ہے۔قربانی کے وقت ہم ”بسم اللہ اللہ اکبر” کہتے ہیں، یعنی ہم اللہ کا نام لے کر اس کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ایمان کی تجدید کا لمحہ
ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے ۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (سورۃ الانعام: 162)ترجمہ کنزالایمان ۔تم فرمائو بے شک میری نماز، میری قربانیاںاور میراجینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے۔قربانی کا گوشت صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ رشتہ داروں، پڑوسیوں، اور غرباء و مساکین میں تقسیم کرنے کا حکم ہے۔ یہ عمل اسلامی معاشرے میں اخوت، برابری، اور شفقت کو فروغ دیتا ہے۔

 *عبرت آموز مثالیں* 
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی قربانی وآزمائش وصبرسے اپنے پروردگار عالم کے حکم کی تکمیل کی ،جان، مال، گھر، بیٹا، سب کچھ اللہ کے حوالے کیا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی خواہشات کو نہیں، بلکہ اپنی گردن کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دیا۔حضرت حاجرہ علیہا السلام نے اپنے ننھے بیٹے حضرت سماعیل علیہ السلام کو لے کر تنہا بیابان میں اللہ پر بھروسہ کر کہ زندگی گزاری وآبِ زمزم جاری ہوا وصفامروہ کو سعادتیں حاصل ہوئیں اورمکہ مکرمہ جو دنیائے اسلام کا قبلہ و قلب و مرکز ہے 2025کے مردم شماری کے عدد کے اعتبار سے مکہ مکرمہ کی آبادی اس وقت تقریباََ بائیس لاکھ سے زائد ہے ۔امسال2025 (ہجری 1446) میں سرکاری اعداد وشمار جنرل اتھارٹی فارسٹیٹسٹکس آف سعودی عرب GASTAT)) کی جانب سے جاری کردہ ریپورٹ کے مطابق تقریباََ 16لاکھ 73 ہزار 230 خوش نصیب مسلمانوں نے حج بیت اللہ کی سعادتیں حاصل کی ۔ جب ہم نے اللہ پاک کی رضا کے لئے قربانی کی ہے توضرور ہم میں دینی بیداری دینی شعورپیداہونا چاہئے ہمیںاپنے نفس، تکبر، خواہشات، اور گناہ اور اپنی ضد، انانیت ، جھوٹ، فریب، خود غرضی کو قربان کرنا چاہئے حقیقت میں اگر ہمارے اندر ایک انقلاب پیداہوگیاہوتو واللہ اب تسبیح وتحلیل میں عجیب لطف حاصل ہوگا عبادات میں سرور پیداہوگا دلوں میں لطافت ودردمندی وخشیت اور پیشانی میں سجدوں کی تڑپ وزبان پر تسبیح اور آنکھوں میں اشکِ ندامت ہوگی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امام مسجدرسولُ اللہ ﷺ خطیب مسجدرحیمیہ میسور روڈ بنگلور
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ و نوری فائونڈیشن بنگلور
tauheedtauheedraza@gmail.com
9886402786

Comments

Popular posts from this blog

15 August Independence day 2025 Urdu Article

Muslimanan-e-Hind qanoon-e-Hind o qanoon-e-Shariat ke alambardaar hain. ✅