Qurbani ke janwaron ko sair o tafreeh ka zariya na banayen.

                                              قربانی کے جانوروں کوسیر و تفریح کا ذریعہ نہ بنائیں 



                                                        یہ عبادت ہے، عبادت میں نہ مذاق ہے نہ دکھاوا

                                                               تحریر: محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور 

قربانی یہ ایک عظیم عبادت ہے،قربانی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سچی اطاعت کی یادگارہے اورہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی سنت بھی ہے اور یہی عمل اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ  ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے  لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟  آپ  ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی  لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں  ہمارے آخرنبی حضرت محمد مصطفیٰ  ﷺنے فرمایا۔ بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے (سنن ابن ماجہ کِتَابُ الْأَضَاحِی)قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت کی یادگار ہے۔ یہ عمل صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں ایثار، قربانی، عاجزی، اور رب کی رضا شامل ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ بعض نوجوان اس عظیم عبادت کو تفریح و تماشے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔

قربانی سے قبل کئی نوجوان اپنے جانوروں کو  گلیوں، بازاروں، اور عوامی مقامات پر گھماتے ہیں۔ جانوروں کے ساتھ کھیلنا، دوڑانا، انہیں مقابلوں میں شریک کرنا اور ان کی نمائش کو تفریح سمجھنا عام ہوتا جا رہا ہے۔اس کے نتیجے میں:راستے ناپاک ہو جاتے ہیں (جانوروں کی لید اور پیشاب سے)شہریوں کو چلنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ٹریفک میں رکاوٹ اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔غیر مسلم ہم وطنوں کے جذبات متاثر ہوتے ہیں۔عبادت کا تقدس مجروح ہوتا ہے

                                                                         قربانی میں  ریا کاری کا زہر

 ریاکاری کا لغوی معنی،دکھاوا،ہے  دیکھاوا یعنی کسی نیک عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضاکے بجائے لوگوں کو دیکھانامقصودہو  مطلب یہ نکلا کہ انسان نمازروزہ حج وزکوٰۃ صدقہ اور قربانی تو کرتاہے لیکن اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگ اسے نیک سخی متقی کہیں گے یا بڑا سمجھیں گے تو یہ عمل ریا کہلائے گا،شریعت میں ریاکاری اور دکھاوا منع ہے: قرآن وحدیث میں اس کی سخت وعید آئی ہے  اللہ تعالیٰ پارہ 3 سورہ بقرہ آیت 264 میں فرماتاہے۔ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والوں  اپنے صدقے باطل نہ کردو  احسان رکھ کر  اور ایذادے کر  اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔یعنی اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو، جیسے وہ شخص جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔اور فرمایا(سورۃ الماعون: آیت نمبر 4–6)میں ترجمہ کنزالایمان: توان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں  وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔یعنی  ہلاکت ہے اُن نمازیوں کے لیے، جو اپنی نماز سے غافل ہیں، جو لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔اور حدیث شریف میں ریاکاری کو شرک اصغر کہا گیا ہے، جیسے کہ مروی ہے:ترجمہ:محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ نے فرمایا: مجھے تم پر سب سے زیادہ شرک ا صغر ریا یعنی دکھاوے میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دیتے وقت ارشاد فرمائے گا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے لیے دنیا میں تم دکھاوا کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا تم ان کے پاس کوئی جزا پاتے ہو؟(مسند احمد بن حنبل)اورصحیح مسلم میں ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ: من رائی رائی اللہ بہ، ومن سمع سمع اللہ بہ۔جس نے دکھاوے کے لیے عمل کیا، اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کی رسوائی کرے گا۔

 (صحیح مسلم کِتَاب الزُّہْدِ وَالرَّقَاءِقِ)قرآن وحدیث میں دیکھاوے کی عبادات سے روکاگیاہے اور عبادت کامقصد صرف اللہ پاک کی رضاہے  وہی اجروثواب کا حقیقی مالک ہے  اس لیے قربانی دکھاوے یا تماشے کے لیے نہیں، بلکہ خالص اللہ پاک کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ورنہ یہی ریاکاری زہرکا کام کرے گی۔

                                                     جانوروں کی لیدسے گزرگاہوں کو صاف رکھیں 

قربانی کے جانوروں کی لید اور پیشاب سے گزرگاہوں  سڑکوں اور عوامی جگہوں کو محفوظ رکھنا بیحد ضروری ہے  تاکہ لوگوں کی صحت پر بُرااثر نہ پڑے  غیر مسلم اسی کو اسلام کا حصہ نہ سمجھیں  اس لئے کہ ہمارے نبی نے فرمایاکہ صفائی آدھاایمان ہے(صحیح مسلم)قرآن پاک سورہ بقرہ آیت۲۲۲میں ہے ترجمہ کنزالایمان۔بیشک اللہ پسندرکھتاہے بہت توبہ کرنے والوں اور پسند رکھتاہے ستھروں کو۔

راستوں کو ناپاک کرنا گناہ ہے:قال رسول اللہ ﷺ: اتقوا اللعانین، قالوا: وما اللعانان یا رسول اللہ؟ قال: الذی یتخلی فی طریق الناس أو فی ظلھم،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم دو سخت لعنت والے کاموں سے بچو،صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ  سخت لعنت والے وہ دو کام کون سے ہیں؟  آپﷺ نے فرمایا:جو انسان لوگوں کی گزرگاہ میں یا ان کی سایہ دار جگہ میں (جہاں وہ آرام کرتے ہیں) قضائے حاجت کرتا ہے (لوگ ان دونوں کاموں پر اس کو سخت برا بھلا کہتے ہیں (مسلم شریف کِتَاب الطَّہَارَۃِ)جانوروں کی لید اور پیشاب سے راستے گندے کرنا، شریعت میں ناپسندیدہ ہے۔

                                                                              قربانی کا عملی پیغام 

 قربانی کا عملی پیغام اور اس کا حل یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کو سیر و تفریح کا ذریعہ نہ بنائیں۔ یہ عبادت ہے، مذاق نہیں۔جانوروں کو عوامی جگہوں پر نہ لے جائیں، خاص کر غیر مسلم علاقوں یا مخلوط محلّوں میں۔

صفائی کا اہتمام کریں، اگر جانور نے گندگی کی تو فوراً اسے صاف کریں۔والدین اور علمائے کرام نوجوانوں کی تربیت کریں کہ وہ قربانی کے آداب سیکھیں میونسپل ادارے بھی صفائی کے انتظامات بہتر بنائیں اور لوگوں کو شعور دلائیں۔ نتیجہ:ہماری عبادات کا اثر صرف ہمارے درمیان نہیں، بلکہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ قربانی اللہ کی رضا کے لیے ہے، تو اسے شریعت کے دائرے میں، ادب، صفائی اور حسنِ سلوک کے ساتھ انجام دینا ہی اصل قربانی ہے۔ اگر ہم نے اخلاق، صفائی اور ادب کا مظاہرہ کیا تو یہی قربانی کا اصل مقصد ہوگا اور غیر مسلم بھی دینِ اسلام کے حسن اخلاق سے متاثر ہوں گے۔قربانی عبادت ہے، نہ کہ تفریح۔ اس کے آداب کا لحاظ رکھنا، ہمارے دین کا حصہ ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس عظیم سنت کو اس کے حقیقی وقار کے ساتھ ادا کریں، اور اپنے عمل سے اسلام کا خوبصورت پیغام دوسروں تک پہنچائیں۔

              تحریر۔محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور

               امام مسجدرسولُ اللہ ﷺ   خطیب مسجدرحیمیہ میسورروڈ بنگلور  

           مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ  نوری فاؤنڈیشن بنگلور

Email.Tauheedtauheedraza@gmail.com       

 
















Comments

Popular posts from this blog

The days of Qurbani have passed, but the message of sacrifice still lives on

15 August Independence day 2025 Urdu Article

Muslimanan-e-Hind qanoon-e-Hind o qanoon-e-Shariat ke alambardaar hain. ✅