Hajj jismani o Mali ebadat hai
Hajj jismani aur mali ebadat hai حج جسمانی ومالی عبادت ہے
اسلام میں عبادات کی اقسام
محترم قارئین کرام حج ِ بیت اللہ جسمانی ومالی عبادت کیسے ہے اس کو جاننے کیلئے ہمیں سب سے پہلے عبادت کی اقسام کو جاننا بیحد ضروری ہے عبادت کا فائدہ عبادت کی اقسام کے ادراک کے بغیر کسی بھی عبادت کی تعظیم وادب احترام وروحانی سکون نہیں پاسکتے لھذا اسلام نے عبادات کو جسمانی، مالی اور مشترکہ اقسام میں خوبصورتی سے تقسیم کیا ہے۔اللہ پاک نے جن و انس کو پیدا کرنے کا مقصدسورۃ الذاریات آیت ۶۵میں بیان کیاہے: ترجمہ کنزالایمان، میں نے جن و آدمی اتنے ہی اس لئے بنائے کہ میری بندگی کرے،یعنی زندگی کا مقصد ہی عبادت ہے، مگر یہ عبادت کئی صورتوں میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ مثلاََ نماز روزہ حج زکوٰۃ قربانی صدقات واجبہ و نافلہ سچائی امانت کی ادائیگی والدین سے حسن سلوک رشتہ داروں سے نیکی یتیموں مسکینوں مسافروں اور زیرِدست انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بھلائی نیز دعا ذکرقرائت وغیرہا عبادات ہیں اور عبادت کا یہ پہلو بھی دعوتِ انبیاء کا
بنیادی عنوان ہے یہ پوری کائنات اور کائنات کی ہر ہر چیزاللہ رب العزت کی عبادت گزار ہے البتہ عبادت کا طریقہ ہر مخلوق کے لئے الگ الگ ہے پارہ پندرہ سورہ بنی اسرائیل آیت ۴۴ میں اللہ پاک نے فرمایا۔ترجمہ کنزالایمان،اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اسے سراہتی ہوئی،اس کی پاکی نہ بولے، ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔سورۃ الحج آیت ۸۱ سورہ فصلت آیت ۱۱ سورۃ الانبیاء۹۱،۰۲ اور سورۃ التحریم آیت ۲میں عبادت کا ذکر موجود ہے اور بھی متعدد آیات قرآنی موجود ہیں بس تحریر کو مختصرکرناہے۔
زکوٰۃ، نماز، حج قربانی یہ وہ عبادات ہیں جن میں جسمانی محنت اور بدنی مشقت شامل ہوتی ہے
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔بُنِیَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، جنہیں ارکانِ اسلام کہا جاتا ہے۔(پہلا) کلمہ شہادت پڑھنا (دوسرا)نماز قائم کرنا (تیسرا)زکوٰۃ دینا (چوتھا) رمضان المبارک کے روزے رکھنا (پانچواں) بیت اللہ کا حج کرناہے۔
پانچوں بنیادوں کو ہم اچھی طرح سمجھیں گے اسی میں ہمیں عبادت کی قسمیں معلوم ہوں گی پہلی بنیاد کلمہ پڑھنا ہے جوزبان سے اقرار کرنا اور دل سے تصدیق کرنا ہے کہ اللہ پاک ایک ہے حضرت محمدمصطفی ﷺ اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں
نماز پڑھناجسمانی عبادت ہے۔
نماز پڑھنا جسمانی عبادت ہے جودن میں پانچ بار ادا کی جاتی ہے۔
اس میں قیام، رکوع، سجدہ، قعدہ،مکمل جسم شامل ہوتا ہے۔اس لئے یہ خالص جسمانی عبادت ہے
روزہ صبر کا عملی مظاہرہ ہے۔روزے میں کھانے پینے، خواہشات اور گناہوں سے جسمانی طور پر پرہیز کیا جاتا ہے۔روزہ نفس کی تربیت اور صبر کا عملی مظاہرہ ہے اور یہ عبادت جسمانی مشقت سے تعلق رکھتی ہے، اور روح کو پاکیزہ بناتی ہے۔اس میں جسمانی برداشت، صبر، اور خود پر قابو کی تربیت ہے
حج بیت اللہ۔سفر، احرام، طواف، سعی، عرفات میں قیام، رمی یہ سب جسمانی اعمال ہیں۔
ساتھ ہی سفر، رہائش، قربانی وغیرہ کے اخراجات اس میں مالی پہلو بھی شامل ہے
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ:نماز جسمانی عبادت ہے، زکوٰۃ مالی عبادت ہے، اور حج دونوں کا مجموعہ ہے۔
زکوٰۃمالی عبادت ہے۔سال گزرنے پر مال کی مخصوص مقدار اللہ کی راہ میں دینا فرض ہے۔
یہ دل سے مال کو نکالنے کی مشق ہے کہ ہم دنیا کے بندے نہیں بلکہ ہم اللہ پاک کے بندے ہیں۔
اور صدقہ، فدیہ، کفارہ، نذر، قربانی، یہ سب مالی عبادات ہیں جو ہمارے مال کو پاک اور معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ راہ ِ خدا میں مال خرچ کرنا عبادت ہے جس میں صرف اللہ تعالیٰ رضا شامل ہو۔
یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے،زکوٰۃ، اسلام کا مالی نظام ہے جو سماجی توازن قائم رکھتا ہے۔
قربانی مشترکہ عبادت ہے۔قربانی کے لئے جانور خریدنا مالی عمل ہے،اس کا ذبح کرنا جسمانی عمل ہے،نیت اور اللہ کی رضا کے لئے کرنایہ روحانی عمل ہے۔حج و قربانی وہ عبادات ہیں جن میں انسان مکمل طور پر اللہ کے حضور جھک جاتا ہے یعنی مال بھی، جسم بھی، اور دل بھی۔
اسلام میں عبادات کا روحانی نظام
اسلام ہمیں متوازن زندگی سکھاتا ہے:نہ صرف روحانی، بلکہ جسمانی و مالی تربیت بھی۔نہ صرف مسجد میں، بلکہ بازار، گھر، میدانِ عرفات یہاں تک کہ ہرجائز جگہ بندگی کا سبق دیتا ہے۔ہمارا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاہونی چاہیے اس لئے کہ اللہ پاک نے سورہ انعام آیت نمبر ۲۶۱میں اپنے حبیب صاحب لولاک ہمارے پیارے وآخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا۔اِن صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین''تم فرماؤ بے شک میری نماز، میری قربانیاں، میراجینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اسلامی عبادات کا مقصد صرف رسم و رواج کی تکمیل نہیں بلکہ ان کے ذریعہ انسان کے اندر روحانیت اخلاق قربانی صبر مساوات ہمدردی اتحاد ہے اور ان عبادات کا حقیقی اثر اس وقت پڑے گا جب ہم ان کے ظاہری عمل
کے ساتھ ساتھ باطنی پیغام کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے
تحریر۔محمد توحید رضابنگلور
امام مسجد رسول اللہ ﷺ خطیب۔مسجد رحیمیہ میسور روڈ بنگلور
مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ نوری فاؤنڈیشن بنگلور
email.tauheedtauheedraza@gmail.com

.jpeg)

.jpg)


.jpg)




.jpg)










Comments
Post a Comment