ایک فرد کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے (قسط اول)
ایک فرد کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے (قسط اول)
۲۲ اپریل ۵۲۰۲بروز منگل پہلگام کشمیرکی سرزمین سے دل دہلادینے والا اور پوری انسانیت کو شرمسار کرنے والا اورمذہبِ اسلام کو داغدارکرنے والا دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جس میں ۷۲سیاحوں کا ناحق خوں بہایاگیااور کئی سیاح زیرِ علاج ہیں انسانیت کے دشمنوں نے سیاح ومقامی لوگوں میں ڈراور خوف کا ماحول پیداکیا اِس واقعہ نے جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک کو گھیرلیا اِن دہشت گردوں کے ظالمانہ کردار کی وجہ سے پورے مذہب اسلام کے پیروکاروں کو دہشت گرد گرداناجارہاہے اور ملک ِعزیز کے اکابرومقتدر علمائے کرام نے سخت سے سخت الفاظ میں مذمتی بیان جاری کئے اور کہا کہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ہم جانی مالی نقصان اٹھانے والوں کے غم میں برابر شریک ہیں تو ایسے نازک موقع پرعوام الناس کی تعلیمات اسلام کی روشنی میں صحیح رہنمائی کرنا ہم پر فرض ہے
دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں
دہشت گردکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے کہ اسلام، سلامتی، محبت، اخوت اور انسانیت کا مذہب ہے۔ یہ دین ہر اُس عمل کی سختی سے مذمت کرتا ہے جو ظلم، فساد، خونریزی اور دہشت گردی کو فروغ دے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بعض بدفطرت عناصر اپنی ذاتی خواہشات اور مذموم مقاصد کے تحت دہشت گردی جیسے قبیح فعل کو اسلام کے مقدس نام سے جوڑنے کی ناپاک جسارت کر رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کو واضح طور پر بتایا جائے کہ اسلام اور دہشت گردی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اسلام تو ان اعلیٰ ترین اصولوں کا علمبردار ہے جو انسانوں کے مابین امن، انصاف اور بھائی چارے کو فروغ دیتاہے
ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا۔جس نے کسی معاہد (غیر مسلم شہری) کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر 3166)
اسلام کے اولین دور میں مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ نے جو ''میثاقِ مدینہ'' قائم فرمایا، وہ انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور پرُامن بقائے باہمی کا عظیم نمونہ تھا۔ اس میثاق میں مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر قبائل کو مساوی شہری حقوق دیے گئے۔اسلام میں جنگ کی بھی سخت شرائط رکھی گئیں ہیں:جنگ صرف دفاع میں جائز ہے۔نہتے، بوڑھے شیخ فانی، عورتوں، بچوں، راہبوں اور کسانوں کو نقصان پہنچانا حرام ہے۔عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا ممنوع ہے۔فصلیں و کھانے و کھجورکے درختوں کو جلانا منع ہے۔نہ ہی گھر ویران کئے جائیں اور ناہی پھل دار درخت کاٹے جائیں یہ حدیث مصنف ابی شیبہ میں حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
دہشت گردی میں ان تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، لہذا اسلام اور دہشت گردی کا یکجا ہونا ناممکن ہے۔آج بدقسمتی سے بعض عناصر اپنے ناپاک مقاصد کے لیے اسلام کا نام استعمال کر کے دنیا میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔یہ اسلام کے خلاف سب سے بڑا ظلم ہے۔اسلام محبت، بھائی چارے، رواداری اور عالمی امن کا علمبردار ہے۔
دہشت گردی اور اسلام دونوں یکجا نہیں ہو سکتے
دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں جیسے رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے اور علم کا اُجالا اور جہل کا اندھیرا یکجا نہیں ہو سکتا بالکل اسی طرح دہشت گردی اور اسلام یہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے جہاں دہشت گردی کا دور دورہ ہوگا وہاں اسلام کی بہاریں نہیں ہوں گی اور جہاں اسلام کی تانی ہوگی وہاں دہشت گردی کا اندھیرا نہیں ہو سکتا۔(نام کتاب،دہشت گردی اسلام کی نظر میں،ص۸)
مذہب اسلام امن وسلامتی محبت و رواداری کا مذہب ہے یہ صبر و تحمل اعتدال و توازن اور مسلم و غیر مسلم سب کی جان و مال عزت و ابرو کی حفاظت کا درس دیتا ہے
مذہبِ اسلام کیا ہے۔ لفظ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں امن و سلامتی خیر و عافیت گویا اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراپہ خیر و عافیت ہے اور امن و سلامتی کا معنی و مفہوم لفظ اسلام کے اندر موجود ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پسند فرمایا ہے چنانچہ قران مجید میں اللہ نے ارشاد فرمایا۔ورضیت لکم السلام دینا۔آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔(سورۃ المائدہ آیت 3)
اسلام کا معنی و مفہوم اگر ذہن میں رہے تب یہ آیت کریمہ بآسانی ہمیں سمجھ میں آئے گی۔رضیت لکم السلام دیناجیسے الفاظ زبان رسول سے بھی نکلے ہیں حدیث رسول ﷺ ہے سنن ابو داؤد میں حضرت
؎ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔رَضیتُ باللَّہِ ربًّا، وبالإسلامِ دینًا، وبِمُحمَّدٍ ﷺ رسولًا وجبت لہ الجنہ۔ترجمہ۔میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا تو ہمارے نبیﷺنے فرمایا تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی۔ہم دین اسلام کے ماننے والے ہیں پارہ ۳ سورہ ال عمران آیت 19 میں اللہ رب العزت نے فرمایا۔اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ۔بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔اور ہمارا نام مسلمان پہلے ہی رکھا گیا ہے پارہ 17 سورۃ الحج آیت 78 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔ہُوَ سَمّٰیکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ہٰذَا۔اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور قران مجید میں۔تو اس کا خلاصہ یہ نکلا کہ اسلام امن کا پیغام دیتا ہے اور جو اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ امن والے دین میں داخل ہوتا ہے جب امن والے دین میں داخل ہو گیا اب یہ دوسروں کے امن کو غارت نہیں کر سکتا دوسروں کے چین و سکون آرام کو چھین نہیں سکتا اور قرآن میں اللہ نے ہمیں مسلمان کہا تو مسلمان کون ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے (صحیح بخاری کتاب الایمان) اور سنن نسائی صفت المومن میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام لوگ محفوظ و مامون ہوں اور مومن وہ ہے جس کے پاس لوگ اپنی جان اور مال محفوظ سمجھیں۔
دہشت گردانسانیت کے دشمن ہیں
اور دہشت گردوں کی نظر میں انسانی جان کی کوئی اوقات نہیں ہے وہ جب چاہتے ہیں قتل وخوں ریزی شروع کر دیتے ہیں اسی کے برخلاف اسلامی احکام پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کسی کو بھی ناحق قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ صاف اور واضح انداز میں اس سے منع کرتا ہے اللہ ارشاد فرماتا ہے۔ اور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو۔پارہ ۵۱ سورہ نبی اسرائیل آیت ۳۳۔
مذہب اسلام میں انسانی جان کی قدر و قیمت اور اس کی عزت و حرمت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے کسی بغیر شرعی جواز کے ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا اور ایک فرد کو ہلاکت سے بچا لینے کو پوری انسانیت کا بچانا قرار دیا پارہ ۶ سورہ مائدہ آیت 32 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کی تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلا لیا۔ترجمہ کنزالایمان۔اس آیت کریمہ میں اللہ پاک نے واضح الفاظ میں فرمارہاہے کہ بغیر شرعی جواز کے ایک فرد کو قتل کرناگویااس نے پوری انسانیت کا قتل کیاہے۔
دہشت گردی میں مسلمان کا نام ہی کیوں آتاہے
قابل غور طلب امر یہ ہے کہ مسلمان ہی دہشت گرد کیوں نکلتا ہے جہاں کہیں قتل و غارت و خون ریزی ہوتی ہے وہاں سب سے پہلے مسلمان کا نام آ جاتا ہے مسلمان کچھ کرے تو فورا دہشت گرد کہتے ہیں وہی قتل و غارت گری دوسرے لوگ کریں تو انہیں دہشت گرد نہیں کہتے مشہور کہاوت جوہندوستان میں کہتے ہیں۔ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ سارے دہشت گردی کے کام کر کے بھی دہشت گرد نہیں کہلاتے یہ تمہاری منطق ہے تمہارا فلسفہ ہے کہ تم صرف مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہو اور جو ملک تباہ و برباد کررہے ہیں تباہ و برباد ہونے والوں میں بچے بوڑھے جوان عورتیں دکان و مکان سب شامل ہیں اور ملک عزیز میں بھی کئی واقعات ایسے رونماہوئے اور حالیہ دنوں میں مسلمان نوجوان مسلمان بوڑھے بزرگ کو زودکوب کیا گیایہاں تک کہ جانی نقصان بھی ہوا لیکن انہیں کبھی دہشت گرد نہیں کہاجاتاکیوں کیوں کیوں اسی لئے ہم نے کہا کہ یہ تمہارا فلسفہ تمہاری منطق ہے۔ہم نے ابھی سمجھنے کی کوشش کی کہ جہاں اسلام رہتا ہے وہاں دہشت گردی کا کوئی تصور نہیں رہتا اور جہاں دہشت گردی رہتی ہے وہاں اسلام نہیں رہتا اس لیے کہ اسلام اور دہشت گرد دونوں یکجا نہیں ہو سکتے اس لئے برائے کرم ملک کی سرحدوں کو مضبوط کریں کہ کوئی دہشت گرد حدودارضی میں داخل نہ ہونے پائے اور جو دہشت گردآئے انہیں پکڑے اور سخت سے سخت سزادیں کہ دوبارہ کوئی ظلم و ستم کرنے کی ہمت نہ کرے۔مُلک میں موجود ہندو مسلم سکھ عیسائی وغیرہا قوموں میں اتحاد برقرار رہے جو اس اتحاد کو تار تار کرناچاہیں انہیں سختی سے روک دیں خود بخود امن محبت بھائی چارہ میں چارچاند لگ جائیں گے اور نفرت کا بازار ختم ہوجائے گا۔
تحریر۔محمد توحیدرضابنگلور
امام مسجد رسولُ اللہ ﷺ خطیب مسجد رحیمیہ میسورروڈ بنگلور نوری فاؤنڈیشن بنگلور
tauheedtauheedraza@gmail.com
youtube channel Mohammad Tauheed Raza
https://youtu.be/hZi4Ofwj5WU?si=-zQmJJOPEonafkUh







.jpg)





Comments
Post a Comment